لاہور: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ مارچ 2026 میں حکومتی ہاؤسنگ فنانس اسکیم میں نظرثانی کے بعد بینکوں نے چھ سے سات ماہ کے دوران تقریباً 80 ہزار درخواست گزاروں کیلئے 521 ارب روپے کی فنانسنگ منظور کی ہے۔ انہوں نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کاروباری برادری سے گفتگو کرتے ہوئے ہاؤسنگ کے ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کیلئے قرضوں میں اضافے کی تفصیلات بھی پیش کیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق اسکیم کی نظرثانی سے پہلے بینکوں کا بقایا ہاؤسنگ فنانس تقریباً 251 ارب روپے تھا۔ انہوں نے 521 ارب روپے کے اعداد کو نظرثانی شدہ اسکیم کے تحت منظور شدہ فنانسنگ کے طور پر بیان کیا۔ منظور شدہ قرض اور حقیقتاً جاری یا بقایا قرض ایک ہی پیمانہ نہیں ہوتے، اس لیے ان اعداد کا موازنہ کرتے وقت اس فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
جمیل احمد نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کیلئے فنانسنگ بڑھانا حکومت اور مرکزی بینک کی اہم معاشی ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ زراعت، رہائش اور برآمدات کو بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق بغیر ضمانت ایس ایم ای قرض کی حد 10 ملین روپے سے بڑھا کر 50 ملین روپے کی گئی ہے اور ایس ایم ای کی تعریف میں بھی تبدیلی کی گئی ہے تاکہ زیادہ کاروباری ادارے رسمی فنانسنگ تک رسائی حاصل کر سکیں۔
گورنر نے بتایا کہ ایس ایم ای فنانسنگ جون 2024 میں 491 ارب روپے سے بڑھ کر جون 2025 میں 691 ارب روپے اور جون 2026 میں تقریباً 1.11 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔ اسی عرصے میں ایس ایم ای قرض لینے والوں کی تعداد تقریباً 177 ہزار سے بڑھ کر 275 ہزار اور پھر 325 ہزار تک پہنچی۔ یہ اعداد رسمی بینکاری نظام میں کاروباری قرض کی توسیع دکھاتے ہیں، تاہم مختلف اسکیموں کی شرائط اور قرض کی لاگت درخواست گزاروں کیلئے الگ ہو سکتی ہے۔
لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر نے صنعت، حکومت، ایگزم بینک اور کمرشل بینکوں کے درمیان مشترکہ فنانسنگ میکانزم کی تجویز دی۔ انہوں نے ایک ہزار ایس ایم ایز کا انتخاب کر کے ان کے فنانسنگ مسائل کی نشاندہی اور عملی سہولت کاری کا ماڈل بنانے کی بات کی، جسے کامیابی کی صورت میں ملک بھر میں دہرایا جا سکے۔
ہاؤسنگ فنانس میں اضافے کا معاشی اثر تعمیرات، متعلقہ صنعتوں اور گھریلو اثاثہ سازی تک پھیل سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ قرض کی استطاعت، شرح سود، واپسی کی مدت اور بینکوں کے کریڈٹ رسک کے معیارات بھی اہم رہیں گے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے بیان کردہ 521 ارب روپے کی منظوری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نظرثانی شدہ اسکیم کے بعد درخواستوں اور بینکاری سرگرمی میں نمایاں وسعت آئی ہے۔
آئندہ مرحلے میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ منظور شدہ فنانسنگ میں سے کتنی رقم حقیقتاً جاری ہوتی ہے، قرض لینے والوں کی ادائیگی کی کارکردگی کیا رہتی ہے اور ہاؤسنگ فنانس کا اضافہ مختلف آمدنی والے طبقات تک کس حد تک پہنچتا ہے۔ مرکزی بینک کی فراہم کردہ تفصیلات موجودہ پیش رفت کی تصویر پیش کرتی ہیں، تاہم اسکیم کے طویل مدتی نتائج کیلئے مزید دورانیے کے اعداد ضروری ہوں گے۔
