اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 2000 سی سی تک انجن رکھنے والی مقامی طور پر تیار یا اسمبل ہونے والی ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دی ہے۔ یہ تبدیلی وفاقی حکومت کی جانب سے 13 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے ایس آر او 1525(1)/2026 کے ذریعے نافذ کی گئی، جس میں مارچ 2023 کے متعلقہ سیلز ٹیکس نوٹیفکیشن میں ترمیم کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی شرح فوری طور پر مؤثر ہے۔

حالیہ بجٹ اور سابقہ رعایتوں کے خاتمے کے بعد یکم جولائی 2026 سے بعض ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ اس سے پہلے ہائبرڈ گاڑیوں کے مختلف زمروں پر نسبتاً کم شرحیں لاگو تھیں۔ نئی ترمیم کے ذریعے حکومت نے مقامی طور پر تیار ہونے والی 2000 سی سی تک کی ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کو اس 25 فیصد شرح سے نکال دیا ہے، جس کے نتیجے میں ان پر عمومی 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہوگا۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ متعلقہ جدول کی 25 فیصد شرح مقامی تیار شدہ ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر نافذ نہیں ہوگی، بشرطیکہ انجن کی گنجائش 2000 سی سی تک ہو۔ یہ اقدام صرف ٹیکس کی شرح میں تبدیلی ہے اور اس سے دیگر کسٹمز ڈیوٹیز، لیویز یا گاڑیوں کی درجہ بندی سے متعلق قوانین خود بخود تبدیل نہیں ہوتے۔

آٹو مارکیٹ میں ٹیکس پالیسی کے حالیہ اتار چڑھاؤ نے ہائبرڈ اور نئی توانائی والی گاڑیوں کے کاروباری منصوبوں پر اثر ڈالا ہے۔ جون 2026 کے بعد سابقہ رعایتوں کے خاتمے سے ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوا تھا، اور جولائی میں حکومت کی جانب سے 25 فیصد شرح کو دوبارہ 18 فیصد تک لانے کی تجویز سامنے آئی تھی۔ اب تازہ ایس آر او کے اجرا کے بعد 2000 سی سی تک مقامی ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے نئی شرح باقاعدہ نافذ ہو گئی ہے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں اہل مقامی ہائبرڈ ماڈلز کی ٹیکس لاگت کم ہوگی، تاہم صارفین کے لیے حتمی قیمت میں کمی کا حجم ہر کمپنی کی قیمت گذاری، موجودہ اسٹاک، دیگر ٹیکسوں اور پیداواری لاگت پر منحصر ہوگا۔ آٹو صنعت کے لیے یہ تبدیلی اس وقت اہم ہے جب حکومت نئی آٹو پالیسی میں الیکٹرک، پلگ اِن ہائبرڈ، رینج ایکسٹینڈڈ اور روایتی ہائبرڈ گاڑیوں کی ٹیکس درجہ بندی اور مراعات پر الگ الگ فیصلے کر رہی ہے۔