اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان قرض پروگراموں کے تازہ جائزوں پر عملے کی سطح کا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے بعد ملک کے لیے تقریباً ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کی مزید مالی معاونت کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ تاہم یہ رقم فوری طور پر جاری نہیں ہوگی، کیونکہ معاہدے کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے دینا ہے۔

آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق یہ پیش رفت 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے چوتھے جائزے اور موسمیاتی و پائیداری سے متعلق 28 ماہ کے پروگرام کے تیسرے جائزے سے متعلق ہے۔ بورڈ کی منظوری ملنے کی صورت میں پاکستان کو پہلے پروگرام کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور دوسرے کے تحت لگ بھگ 21 کروڑ ڈالر دستیاب ہوں گے۔ دونوں پروگراموں سے مجموعی ادائیگیاں تقریباً پانچ ارب 70 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

فنڈ کی ٹیم نے 23 ستمبر سے سات اکتوبر تک پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کیے۔ اس دوران معاشی کارکردگی، بجٹ، محصولات، توانائی کے شعبے اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے اقدامات پر گفتگو ہوئی۔ فریقین نے آرٹیکل فور کے تحت اقتصادی مشاورت بھی مکمل کی۔

آئی ایم ایف نے کہا کہ مشکل بیرونی حالات کے باوجود قرض پروگرام پر مجموعی پیش رفت طے شدہ راستے کے مطابق رہی، تاہم علاقائی کشیدگی، توانائی کی عالمی قیمتوں اور تجارت میں رکاوٹوں سے خطرات برقرار ہیں۔ ادارے کے مطابق مالی سال 2026 میں حقیقی معاشی نمو کا تخمینہ 3.6 فیصد ہے، جبکہ ستمبر میں عمومی مہنگائی تقریباً 10.3 فیصد رہی۔

فنڈ نے مالی نظم و ضبط، ٹیکس وصولیوں میں بہتری، سرکاری مالیاتی انتظام کی شفافیت اور توانائی کے شعبے میں لاگت کم کرنے پر زور دیا۔ اس نے ایندھن کے وسیع تر امدادی پروگرام کو اس کی لاگت اور غیر محدود ہدف بندی کے باعث جلد ختم کرنے کا بھی کہا، جبکہ مستقبل کی کسی امداد کو محدود مدت اور مستحق گھرانوں تک رکھنے کی سفارش کی۔

اس پیش رفت کا مطلب یہ ہے کہ تکنیکی سطح پر اتفاق رائے پیدا ہوچکا ہے، لیکن بورڈ کی منظوری اور فنڈز کی منتقلی ابھی باقی مراحل ہیں۔ حکومتی معاشی ٹیم کے لیے اب بنیادی چیلنج طے شدہ اصلاحات پر عمل درآمد اور مہنگائی و توانائی کی لاگت کے دباؤ میں معاشی استحکام برقرار رکھنا ہوگا۔