اسلام آباد/تہران: پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی گزرگاہیں دوبارہ کھول دی گئی ہیں، جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سرحدی امور پر دونوں جانب بات چیت کے بعد تجارت اور آمدورفت سے متعلق رکاوٹیں دور کرنے پر پیش رفت ہوئی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ایران کے دورے پر ہیں۔ پاکستانی وفد نے ایرانی صدر کے علاوہ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل سے وابستہ سینئر عہدیدار جنرل محسن رضائی سے بھی ملاقاتیں کیں۔ بات چیت میں دوطرفہ سلامتی، سرحدی انتظام، علاقائی کشیدگی اور پاکستان و ایران کے تعلقات کے مختلف پہلو زیر غور آئے۔
سرحدی تجارت بلوچستان اور ایران کے ملحقہ علاقوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے، جہاں رسمی تجارتی راہداریوں کی بندش سے تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور مقامی آبادی کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ حالیہ کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے دوران پاکستان نے ایران کے ساتھ بعض تجارتی راستوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ دوبارہ کھولنے کے فیصلے سے قانونی تجارت اور سرحد پار نقل و حرکت بحال ہونے کی توقع ہے، تاہم ہر گزرگاہ پر عملی انتظامات متعلقہ حکام کے ضوابط کے تابع رہیں گے۔
تہران میں ملاقاتیں ایسے وقت ہوئی ہیں جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور خطے کے دیگر فریقوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ پاکستان نے حالیہ سفارتی رابطوں میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کی حمایت کی ہے۔ ایرانی قیادت کے ساتھ پاکستانی فوجی اور سیاسی حکام کے رابطوں کو اسی وسیع علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
سرحد دوبارہ کھلنے کو دوطرفہ رابطوں میں عملی پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام علاقائی یا سکیورٹی اختلافات ختم ہو گئے ہیں۔ پاکستان اور ایران کو سرحدی سلامتی، اسمگلنگ، قانونی تجارت اور مقامی آبادی کی ضروریات کے درمیان توازن کے لیے مسلسل رابطہ رکھنا ہوگا۔ آئندہ دنوں میں تجارتی حجم اور مسافروں کی آمدورفت سے واضح ہوگا کہ بحالی کس حد تک معمول کے مطابق ہوئی ہے۔

