اسلام آباد: پاکستان اور ایران نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق زیر التوا معاملات کے حل کے لیے باہمی مذاکرات کی مدت دسمبر 2026 تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس پیش رفت کا مقصد دونوں ملکوں کو منصوبے سے جڑے قانونی اور تجارتی اختلافات پر بات چیت کے لیے مزید وقت فراہم کرنا اور ممکنہ بین الاقوامی ثالثی سے بچنے کی کوشش جاری رکھنا ہے۔
ایران پاکستان گیس پائپ لائن ایک طویل عرصے سے زیر التوا توانائی منصوبہ ہے۔ ایران اپنی جانب پائپ لائن کا بڑا حصہ تعمیر کر چکا ہے، جبکہ پاکستان کی جانب منصوبے پر عمل درآمد مختلف مالی، پابندیوں اور بین الاقوامی قانونی پیچیدگیوں کے باعث آگے نہیں بڑھ سکا۔ اس تاخیر کے نتیجے میں معاہداتی ذمہ داریوں اور ممکنہ جرمانوں کا سوال دونوں ممالک کے مذاکرات کا حصہ رہا ہے۔
دونوں فریقوں کی جانب سے مذاکراتی مدت بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ فوری طور پر تنازع کو حتمی قانونی فورم پر لے جانے کے بجائے سفارتی اور تکنیکی بات چیت جاری رکھی جائے گی۔ تاہم مدت میں توسیع بذات خود پائپ لائن کی تعمیر شروع ہونے، گیس کی ترسیل یا کسی حتمی تصفیے کی ضمانت نہیں ہے۔ ان معاملات کے لیے الگ عملی، مالی اور قانونی فیصلے درکار ہوں گے۔
پاکستان کے لیے یہ منصوبہ توانائی کی طویل مدتی ضروریات سے متعلق ہے، لیکن ایران کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کے تناظر میں اس پر پیش رفت پیچیدہ رہی ہے۔ حکومت ماضی میں بھی متعلقہ شراکت داروں اور قانونی ماہرین سے مشاورت کرتی رہی ہے تاکہ ملک کو ممکنہ مالی ذمہ داریوں سے بچاتے ہوئے توانائی کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
تازہ توسیع کے بعد آئندہ اہم مرحلہ دسمبر 2026 سے پہلے ہونے والی دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ کسی حتمی معاہدے، جرمانے کی معافی، تعمیراتی شیڈول یا گیس فراہمی کی تاریخ کے بارے میں ابھی کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے ان امور کو مذاکرات کے نتائج سے مشروط سمجھا جائے گا۔
