اسلام آباد: ایران کی قیادت نے پاکستان کو بتایا ہے کہ امریکا کے ساتھ تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کے لیے واشنگٹن کو اعتماد سازی کا پہلا قدم اٹھانا ہوگا، جبکہ تہران کی جانب سے پیش کی گئی سات نکاتی تجویز نئے مذاکرات کے لیے ممکنہ نقطۂ آغاز بن سکتی ہے۔ یہ پیش رفت چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران کے دورے اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے دوران سامنے آئی۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی وفد کے ساتھ گفتگو میں ایرانی حکام نے اپنی سفارتی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ کسی بامعنی عمل کے لیے پہلے اعتماد بحال ہونا ضروری ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی سات نکاتی تجویز کو قبول کرنا یا اسے مذاکرات کی بنیاد بنانا کشیدگی کم کرنے کی سمت ایک ابتدائی راستہ فراہم کر سکتا ہے۔ یہ ایرانی موقف ہے اور امریکا کی جانب سے اس تجویز کی حتمی قبولیت کی تصدیق رپورٹ میں نہیں کی گئی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست تصادم کے خدشات، جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات اور آبنائے ہرمز سمیت خلیجی سلامتی کے معاملات پر تناؤ برقرار ہے۔ پاکستان حالیہ مہینوں میں دونوں فریقوں کے ساتھ رابطے میں رہا ہے اور اسلام آباد نے بارہا سفارتی حل اور کشیدگی میں کمی کی حمایت کی ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی بھی زیر بحث آئی۔ پاکستان اور ایران طویل سرحد، تجارت اور سلامتی کے مشترکہ مفادات رکھتے ہیں، تاہم سرحد پار عسکریت پسندی اور علاقائی تنازعات دونوں ملکوں کے لیے مستقل چیلنج رہے ہیں۔ پاکستانی قیادت نے ایران کے ساتھ روابط برقرار رکھتے ہوئے وسیع علاقائی جنگ سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

موجودہ رابطوں کو کسی حتمی ایران-امریکا معاہدے یا باقاعدہ مذاکرات کی بحالی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ فی الحال یہ سفارتی پیغام رسانی اور ممکنہ مذاکراتی فریم ورک پر مشاورت کا مرحلہ ہے۔ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ واشنگٹن اور تہران اعتماد سازی، پابندیوں، جوہری معاملات اور سلامتی کے بنیادی اختلافات پر کس حد تک قابل قبول مشترکہ بنیاد تلاش کرتے ہیں۔