کراچی/اسلام آباد: پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات میں تازہ رپورٹنگ مدت کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے ڈیجیٹل شعبہ خدماتی برآمدات اور زرمبادلہ آمدن کے اہم ذرائع میں اپنی جگہ مضبوط کر رہا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق سافٹ ویئر، آئی ٹی خدمات، بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ اور دیگر کمپیوٹر سے متعلق خدمات سے حاصل ہونے والی آمدن میں مثبت رجحان برقرار رہا۔
پاکستان کی آئی ٹی برآمدات روایتی اشیائی برآمدات سے مختلف ہیں کیونکہ ان کا بڑا حصہ آن لائن خدمات، بیرون ملک کلائنٹس کے لیے سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، تکنیکی معاونت، کلاؤڈ اور ڈیجیٹل کاروباری خدمات پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس شعبے میں فری لانسرز اور چھوٹی و درمیانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا بھی نمایاں کردار ہے، اگرچہ سرکاری برآمدی اعدادوشمار میں مختلف آمدنی کی اقسام الگ طریقوں سے ریکارڈ ہو سکتی ہیں۔
آئی ٹی صنعت طویل عرصے سے پالیسی استحکام، تیز اور قابل اعتماد انٹرنیٹ، بین الاقوامی ادائیگیوں کی سہولت، ہنرمند افرادی قوت اور برآمدی آمدن کی پاکستان واپسی کے قواعد کو اپنی ترقی کے لیے اہم عوامل قرار دیتی رہی ہے۔ برآمدات میں اضافہ ان عوامل کے ساتھ عالمی سطح پر ریموٹ ورک اور ڈیجیٹل خدمات کی بڑھتی مانگ سے بھی جڑا ہوا ہے۔
حکومت نے آئی ٹی برآمدات بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی پارکس، تربیتی پروگرام، فری لانسر سہولیات اور بین الاقوامی مارکیٹنگ سمیت مختلف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ تاہم شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے کمپنیوں کو عالمی معیار کی مہارت، سائبر سکیورٹی، ڈیٹا تحفظ اور مسلسل کاروباری رابطے کی ضرورت رہتی ہے۔ انٹرنیٹ یا ادائیگی کے نظام میں رکاوٹیں خدماتی برآمد کنندگان کے لیے براہ راست کاروباری خطرہ بن سکتی ہیں۔
برآمدی آمدن میں کسی ایک ماہ یا مختصر مدت کا اضافہ مجموعی سالانہ ہدف کے حصول کی ضمانت نہیں ہوتا۔ کرنسی کی قدر، عالمی ٹیکنالوجی اخراجات، بڑے کلائنٹس کے معاہدے اور ملکی کاروباری ماحول آئندہ مہینوں کے اعدادوشمار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے موجودہ اعداد کو مثبت تازہ رجحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ مستقبل کی یقینی شرح نمو کے طور پر۔
اگر پاکستان اپنی آئی ٹی خدمات کی برآمدی بنیاد کو مزید وسیع کرتا ہے تو یہ شعبہ نسبتاً کم فزیکل لاجسٹکس کے ساتھ زرمبادلہ پیدا کرنے، نوجوانوں کے لیے ہنرمند روزگار بڑھانے اور مقامی کمپنیوں کو عالمی ویلیو چین سے جوڑنے میں بڑا کردار ادا کر سکتا ہے۔ آنے والی سرکاری تجارتی اور ادائیگیوں کی شماریات سے واضح ہوگا کہ موجودہ اضافہ کس حد تک برقرار رہتا ہے۔
