اسلام آباد: پاکستان میں کرپٹو کرنسی اور ویب3 شعبے کے لیے ایک متحدہ صنعتی نمائندہ ادارہ قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے تاکہ ڈیجیٹل اثاثوں کے سرمایہ کاروں کے تحفظ، شکایات کے منظم ازالے اور بین الاقوامی کرپٹو ایکسچینجز کے ساتھ رابطے کے لیے ایک واضح پلیٹ فارم موجود ہو۔ ڈان کے مطابق ایشیا ویب3 الائنس جاپان کی صدر ہنزا آصف نے کہا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی کرپٹو مارکیٹ کے باوجود سرمایہ کاروں سے متعلق قابلِ تصدیق اعداد و شمار اور صنعت کی مشترکہ نمائندگی کا باقاعدہ نظام موجود نہیں۔
یہ تجویز ایک بڑے بین الاقوامی کرپٹو ایکسچینج سے متعلق حالیہ سائبر سکیورٹی واقعے کے پس منظر میں پیش کی گئی ہے۔ ہنزا آصف نے کہا کہ بڑے ایکسچینجز پر سکیورٹی خلاف ورزی سرمایہ کاروں کو مالی نقصان، غیر مجاز لین دین اور رقوم نکلوانے میں رکاوٹ جیسے خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے واقعے کے پاکستانی سرمایہ کاروں پر حقیقی اثرات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے اور غیر مصدقہ تخمینوں کو حتمی اعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو 2025 کے گلوبل کرپٹو اڈاپشن انڈیکس میں تیسرا مقام دیا گیا تھا۔ ملک میں تقریباً چار کروڑ کرپٹو سے منسلک اکاؤنٹس اور 10 سے 20 ارب ڈالر تک ڈیجیٹل اثاثوں کی موجودگی کے تخمینے بھی پیش کیے جاتے رہے ہیں، لیکن یہ اعداد سرکاری طور پر منفرد انفرادی سرمایہ کاروں کی تعداد کے طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ یہی فرق پالیسی سازی اور سرمایہ کار تحفظ کے لیے مستند ڈیٹا کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔
ہنزا آصف نے پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے ذریعے حکومتی ضابطہ کاری کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ریگولیٹر اور ایک آزاد صنعتی انجمن کے کردار ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ تکمیلی ہو سکتے ہیں۔ ریگولیٹر اپنے قانونی اختیار کے تحت نگرانی کرے گا، جبکہ صنعت کی تنظیم فن ٹیک کمپنیوں، بلاک چین کاروباروں، ٹیکنالوجی ماہرین اور سرمایہ کاروں کو پالیسی سازوں کے سامنے مشترکہ مسائل رکھنے کا پلیٹ فارم دے سکتی ہے۔
انہوں نے ایک قومی ڈیجیٹل فنانس پلیٹ فارم کی ضرورت بھی بیان کی جس میں قابلِ اعتماد مارکیٹ ریسرچ، سرمایہ کار شکایات کے مربوط طریقہ کار، سائبر سکیورٹی آگاہی اور بین الاقوامی صنعتی اداروں کے ساتھ رسمی شراکت داری شامل ہو۔ ان کے مطابق پاکستان کی ڈیجیٹل فنانس صلاحیت صرف کرپٹو ٹریڈنگ تک محدود نہیں بلکہ بلاک چین ایپلی کیشنز، ڈیجیٹل ادائیگیوں، فن ٹیک کاروبار اور بیرونی سرمایہ کاری تک پھیلی ہوئی ہے۔
مجوزہ صنعتی باڈی ابھی ایک تجویز ہے اور اس کے قانونی ڈھانچے، رکنیت یا سرکاری اداروں کے ساتھ رسمی تعلق کی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے اسے قائم شدہ ادارہ یا منظور شدہ سرکاری منصوبہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ تاہم یہ تجویز پاکستان میں ورچوئل اثاثوں کے ضابطہ جاتی فریم ورک کے ساتھ صنعت کی منظم نمائندگی اور سرمایہ کار تحفظ کی ضرورت پر جاری بحث میں ایک نئی پیش رفت ہے۔
