اسلام آباد: پاکستان اور کویت نے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کے لیے ویزا شرائط ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح رابطوں کے دوران ہوئی، جہاں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والے اہل افراد کو باہمی بنیادوں پر ویزا سے استثنیٰ ملے گا۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری وفود، سفارتی حکام اور ریاستی سطح کے رابطوں کو آسان بنانا ہے۔ عام پاسپورٹ رکھنے والے شہری اس مخصوص معاہدے کے دائرے میں شامل نہیں ہیں، اس لیے ان کے لیے موجودہ ویزا قواعد اپنی جگہ برقرار رہیں گے جب تک متعلقہ حکام کوئی الگ اعلان نہ کریں۔
پاکستان اور کویت کے درمیان دیرینہ سیاسی اور اقتصادی تعلقات ہیں اور خلیجی ریاست پاکستانی افرادی قوت کی ایک اہم منزل بھی رہی ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں حکومتوں نے توانائی، معدنیات، زراعت، انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر متعدد بار بات چیت کی ہے۔ اعلیٰ سطح ملاقات میں بھی اقتصادی روابط کو روایتی سفارتی تعلقات کے ساتھ آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
پاکستانی قیادت نے کویتی سرمایہ کاروں کو ملک میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کے لیے سرکاری سہولت کاری کی یقین دہانی کرائی۔ دونوں جانب سے کاروباری روابط اور ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ ویزا استثنیٰ کا نیا انتظام سرکاری سطح کے سفر میں انتظامی رکاوٹیں کم کرنے کی سمت ایک عملی قدم سمجھا جا رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خلیج میں پاکستانی تارکین وطن، تجارت، توانائی اور مالی تعاون کے تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں۔ نئے معاہدے کے عملی نفاذ کی تفصیلات متعلقہ سفارتی اور امیگریشن حکام طے کریں گے۔ سرکاری سطح پر ہونے والے ایسے انتظامات عام طور پر باہمی سہولت کے اصول کے تحت نافذ کیے جاتے ہیں اور ان کا مقصد حکومتی رابطوں اور وفود کے تبادلوں کو زیادہ مؤثر بنانا ہوتا ہے۔
