بشکیک/اسلام آباد: پاکستان اور کرغزستان نے دوطرفہ تجارتی حجم کو آئندہ دو سال میں بتدریج 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے 2 ستمبر کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق متعلقہ سرکاری اداروں کو ایک جامع ایکشن پلان تیار اور نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جس میں تجارتی طریقہ کار بہتر بنانے، مشترکہ سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور کاروباری سرگرمی بڑھانے کے اقدامات شامل ہوں گے۔

یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف اور کرغز صدر صادر جپاروف کے بشکیک میں مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔ دستیاب سرکاری و صحافتی معلومات کے مطابق دونوں ملکوں کی موجودہ سالانہ تجارت تقریباً 16 ملین ڈالر ہے، جسے دونوں رہنماؤں نے دستیاب اقتصادی صلاحیت کے مقابلے میں بہت کم قرار دیا۔ 200 ملین ڈالر کا عدد مکمل ہو چکی تجارت یا فوری سرمایہ کاری نہیں بلکہ دو سال کے لیے مقرر کیا گیا پالیسی ہدف ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مجاز حکام باہمی تجارت کے نظام کو آسان بنانے، کاروباری روابط بڑھانے، مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی اور صنعتی تعاون کے مواقع پیدا کرنے کے لیے قابل عمل خاکہ بنائیں گے۔ ہدف حاصل کرنے کے لیے مصنوعات کی شناخت، کسٹمز اور نقل و حمل میں سہولت، بینکاری روابط اور نجی شعبے کے درمیان براہ راست رابطہ اہم ہوں گے، تاہم اعلامیے میں ہر اقدام کی الگ آخری تاریخ یا مالی حجم درج نہیں کیا گیا۔

دورے کے دوران دفاع، تعلیم، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت اور علاقائی رابطہ کاری سمیت متعدد شعبوں میں معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ تجارتی ہدف سے متعلق دستاویز نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ان کے کرغز ہم منصب نے دونوں سربراہان کی موجودگی میں تبادلہ کی۔ ہر مفاہمتی یادداشت کی قانونی حیثیت اور عملی نفاذ اس کے متن، متعلقہ اداروں کی منظوری اور بعد کے انتظامی فیصلوں سے مشروط ہوگا۔

پاکستان اور کرغزستان دونوں شنگھائی تعاون تنظیم اور اقتصادی تعاون تنظیم سمیت علاقائی فورمز میں شریک ہیں۔ دونوں فریق وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارتی راستوں، زمینی و فضائی رابطوں اور کاروباری نقل و حرکت کو بہتر بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم جغرافیائی فاصلہ، براہ راست نقل و حمل کے محدود انتظامات، ادائیگی کے ذرائع اور منڈی سے متعلق معلومات کی کمی دوطرفہ تجارت بڑھانے میں عملی رکاوٹیں رہ سکتی ہیں۔

اعلامیے میں مشترکہ سرمایہ کاری منصوبوں اور کاروباری سرگرمی کو بڑھانے پر بھی زور دیا گیا، لیکن کسی ایک منصوبے کے لیے 200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری منظور نہیں کی گئی۔ یہ ہدف مجموعی تجارتی turnover سے متعلق ہے، جس میں دونوں سمتوں کی برآمدات و درآمدات شامل ہوتی ہیں۔ اس فرق کو واضح رکھنا ضروری ہے تاکہ ہدف کو کسی طے شدہ قرض، امداد یا سرمایہ کاری پیکیج کے طور پر نہ سمجھا جائے۔

اگلا قابل پیمائش مرحلہ متعلقہ وزارتوں اور تجارتی اداروں کی جانب سے جامع ایکشن پلان، ترجیحی مصنوعات اور عمل درآمد کا نظام جاری کرنا ہوگا۔ دو سال بعد پیش رفت کا درست جائزہ سرکاری تجارتی اعداد، کسٹمز ڈیٹا اور اصل معاہدوں پر عمل درآمد سے لیا جا سکے گا۔ فی الحال مشترکہ اعلامیہ دونوں حکومتوں کی سیاسی ہدایت اور اقتصادی تعاون بڑھانے کا باضابطہ عزم فراہم کرتا ہے۔