بشکیک: پاکستان اور کرغزستان نے دوطرفہ تعلقات کو تجارت، سلامتی، تعلیم، صحت، ماحول اور نئی ٹیکنالوجی تک وسعت دینے کے لیے 17 معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں اور تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے ہیں۔ دستاویزات کا تبادلہ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں وزیراعظم شہباز شریف اور کرغز صدر صدیر جپاروف کی موجودگی میں ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے بعد اقتصادی شراکت داری کو عملی اور نتائج پر مبنی بنانے پر زور دیا۔
دستخط شدہ دستاویزات میں دونوں وزارتِ خارجہ کے درمیان 2026 اور 2027 کا سفارتی تعاون پروگرام، ٹرانزٹ تجارت کا انتظام، سائنس و ٹیکنالوجی میں تعاون اور ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ شامل ہیں۔ فوجداری معاملات میں باہمی قانونی معاونت کے لیے ایک مسودہ بھی تیار کیا گیا، جبکہ دونوں وزارتِ داخلہ نے منشیات، نفسیاتی اثر رکھنے والے مواد اور متعلقہ کیمیائی اجزا کی غیر قانونی تجارت کے خلاف تعاون کی یادداشت پر دستخط کیے۔ حوالگی یا قانونی معاونت کی کسی بھی درخواست پر عمل متعلقہ ملکی قوانین، عدالتی طریقۂ کار اور معاہدے کی شرائط کے تابع ہوگا۔
تعلیم اور صحت کے شعبوں میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل اور کرغز وزارتِ صحت کے درمیان طبی تعلیم سے متعلق مفاہمتی یادداشت طے پائی۔ دونوں ملکوں کی وزارتِ تعلیم نے تدریس اور ادارہ جاتی روابط بڑھانے، جبکہ اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اور کرغز نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک انیشی ایٹوز نے مشترکہ تحقیق کی دستاویز پر دستخط کیے۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی پاکستان نے بھی اسی کرغز ادارے کے ساتھ علمی اور تحقیقی سرگرمیوں میں تعاون کا فریم ورک قائم کیا۔
ماحول اور ڈیجیٹل شعبے میں پاکستان کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اور کرغز وزارتِ قدرتی وسائل نے مشترکہ کام پر اتفاق کیا۔ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی اور کرغز نیشنل ایجنسی فار ورچوئل ایسٹس اینڈ بلاک چین ٹیکنالوجیز کے درمیان ریگولیٹری تجربے کے تبادلے کی یادداشت بھی طے پائی۔ یہ دستاویز خود کسی کمپنی کو پاکستان میں لائسنس یا کاروبار کی اجازت نہیں دیتی؛ ایسی اجازت ہر ملک کے متعلقہ قانون اور ریگولیٹر کے الگ فیصلے سے مشروط رہے گی۔
عوامی اور تجارتی روابط کے لیے لاہور اور کرغز شہر اوش کو جڑواں شہر بنانے کا معاہدہ، پاکستان پوسٹ اور کرغز پوسٹ کے درمیان ڈاک و ای کامرس تعاون اور دونوں ملکوں کے ایوان ہائے تجارت کے درمیان کاروباری رابطے بڑھانے کی دستاویز بھی شامل ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے موجودہ دوطرفہ تجارت کو تقریباً 16 ملین ڈالر قرار دیتے ہوئے اسے دو برس میں 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف پیش کیا، جس پر بعد میں باقاعدہ تجارتی معاہدہ کیا گیا۔
اعلانات دونوں ملکوں کے تعاون کا وسیع خاکہ فراہم کرتے ہیں، مگر ان کے عملی نتائج نفاذی قواعد، بجٹ، ذمہ دار اداروں، مقررہ مدت اور کاروباری رکاوٹوں کے حل پر منحصر ہوں گے۔ 200 ملین ڈالر کا عدد ہدف ہے، حاصل شدہ تجارت نہیں۔ اگلا امتحان یہ ہوگا کہ ٹرانزٹ راستوں، براہِ راست فضائی و زمینی رابطوں، بینکاری سہولت اور کاروباری معاہدوں کو کس رفتار سے فعال کیا جاتا ہے۔




