نیویارک: اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کے براعظموں اور زمینی خطوں کے نسبتی حجم کو زیادہ درست انداز میں دکھانے والے نقشوں کے فروغ سے متعلق ’کریکٹ دی میپ‘ قرارداد 164 ووٹوں سے منظور کر لی ہے۔ امریکا نے مخالفت میں واحد ووٹ دیا، جبکہ ایسٹونیا، جارجیا، لتھوانیا، مالدووا، سربیا اور یوکرین نے ووٹنگ میں غیر جانب داری اختیار کی۔

قرارداد کی قیادت ٹوگو نے کی اور اسے افریقی یونین کے رکن ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ متن میں رکن ملکوں، بین الاقوامی اداروں، تعلیمی نظام، میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کو ایسے نقشہ جاتی طریقے اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جو مطلوبہ استعمال کے مطابق براعظموں کا رقبہ اور جغرافیائی حقیقت زیادہ متناسب طور پر دکھائیں۔ ’ایکول ارتھ‘ پروجیکشن کو ان ممکنہ متبادل طریقوں میں نمایاں کیا گیا ہے۔

یہ قرارداد قانونی طور پر پابند نہیں اور نہ ہی اس نے دنیا بھر میں مرکٹر نقشے کے استعمال پر پابندی عائد کی ہے۔ کسی اسکول، حکومت، میڈیا ادارے یا ٹیکنالوجی کمپنی کے لیے فوری طور پر ایک مخصوص نقشہ اپنانا لازمی نہیں ہوا۔ عملی تبدیلی کا انحصار قومی پالیسی، نصاب، ادارہ جاتی فیصلوں اور مختلف استعمالات کے لیے موزوں پروجیکشن کے انتخاب پر ہوگا۔

مرکٹر پروجیکشن فلیمش نقشہ ساز جیرارڈس مرکٹر نے 1569 میں سمندری جہاز رانی کے لیے تیار کیا تھا۔ یہ مقامی زاویوں اور سمتوں کو اس انداز میں محفوظ رکھتا ہے کہ مستقل کمپاس سمت والی راہیں سیدھی لکیر کے طور پر دکھائی جا سکیں، اسی لیے نیوی گیشن میں اس کی تاریخی اہمیت برقرار ہے۔ تاہم خطِ استوا سے دور علاقوں کا رقبہ اس نقشے پر بہت بڑا دکھائی دیتا ہے۔

اسی تحریف کے باعث گرین لینڈ بعض مرکٹر نقشوں میں افریقہ کے قریب قریب دکھائی دیتا ہے، حالانکہ حقیقی رقبے میں افریقہ تقریباً 14 گنا بڑا ہے۔ افریقی یونین اور قرارداد کے حامیوں کا کہنا ہے کہ تعلیم، میڈیا اور عمومی معلومات میں ایسے نقشوں کا مسلسل استعمال افریقہ، لاطینی امریکا، جنوبی ایشیا اور خطِ استوا کے قریب دیگر علاقوں کے حجم کے بارے میں غلط تصور پیدا کرتا ہے۔

ایکول ارتھ ایک مساوی رقبہ پروجیکشن ہے جسے 2018 میں نقشہ سازوں بویان شاوریچ، ٹام پیٹرسن اور برنہارڈ جینی نے تیار کیا۔ اس کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ مختلف خطوں کا نسبتی رقبہ درست تناسب سے دکھایا جاتا ہے۔ تاہم کرۂ ارض کو بالکل ہموار سطح پر منتقل کرتے وقت کوئی بھی نقشہ شکل، فاصلہ، سمت یا رقبے میں سے ہر چیز بیک وقت مکمل طور پر محفوظ نہیں رکھ سکتا؛ اس لیے مختلف مقاصد کے لیے مختلف پروجیکشن مناسب رہتی ہیں۔

امریکا نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے اسے نظریاتی ایجنڈے اور جنرل اسمبلی کی توجہ حقیقی عالمی مسائل سے ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔ دوسری جانب ٹوگو اور افریقی یونین کے نمائندوں نے اسے تاریخی نقشہ جاتی عدم توازن درست کرنے، تعلیمی درستگی بڑھانے اور دنیا کے خطوں کی زیادہ منصفانہ بصری نمائندگی کی کوشش کہا۔ یہ دونوں مؤقف ووٹ سے پہلے اور بعد کے سفارتی بیانات میں سامنے آئے۔

پاکستان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ پاکستان کے ووٹ کی وضاحت کے مطابق حمایت کا دائرہ براعظمی زمینی حجم کی درست نمائندگی تک محدود ہے، نہ کہ ملکوں کی سیاسی نقشہ بندی یا سرحدوں کی تبدیلی تک۔ پاکستانی مؤقف میں کہا گیا کہ تعلیمی و نقشہ جاتی مقصد کے لیے منظور شدہ متن کسی متنازع علاقے کی قانونی حیثیت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں یا تسلیم شدہ بین الاقوامی سرحدوں پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

قرارداد کا نام ’دنیا کا نقشہ درست کرنا: عالمی نقشہ جاتی نمائندگی میں توازن اور دنیا کے خطوں، خصوصاً افریقہ، کی منصفانہ نمائندگی کا فروغ‘ ہے۔ اس کا مقصد ایک ہی نقشہ ہر استعمال پر مسلط کرنا نہیں، بلکہ نقشہ بنانے والے اداروں کو یہ سوچنے پر مجبور کرنا ہے کہ آیا ان کا منتخب طریقہ مطلوبہ معلومات، بالخصوص زمینی رقبے، کو درست طور پر منتقل کرتا ہے۔

اگلا مرحلہ رضاکارانہ اور ادارہ جاتی نفاذ ہوگا۔ ٹوگو نے حکومتوں، تعلیمی اداروں، اقوامِ متحدہ کے اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ عملی اپنانے پر مزید گفتگو کا عندیہ دیا ہے۔ قرارداد کی حقیقی اثر پذیری کا اندازہ نصابی کتابوں، سرکاری اشاعتوں، نیوز گرافکس اور ڈیجیٹل نقشہ خدمات میں آنے والی قابلِ پیمائش تبدیلیوں سے ہوگا، نہ کہ صرف جنرل اسمبلی کی ووٹنگ سے۔