امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کے لیے تقریباً 5 ارب ڈالر مالیت کے ممکنہ فوجی فروخت پیکیج کی منظوری دیتے ہوئے اس معاملے سے امریکی کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے۔ امریکا کی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی کے 4 ستمبر 2026 کے نوٹیفکیشن کے مطابق سعودی حکومت نے 5,004 کے ایم یو-572 جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشن ایکسٹینڈڈ رینج، یعنی جے ڈی اے ایم-ای آر، رہنمائی کٹس خریدنے کی درخواست کی ہے۔ یہ منظوری ممکنہ فارن ملٹری سیل سے متعلق ہے؛ اسے حتمی تجارتی معاہدہ، مکمل ادائیگی یا سامان کی ترسیل نہیں سمجھا جاسکتا۔
مجوزہ پیکیج میں رہنمائی کٹس کے علاوہ فیوز نظام، ہدف معلوم کرنے والے آلات، کنٹینرز، معاون سامان، پرزے، تکنیکی دستاویزات، تربیت، امریکی حکومت اور ٹھیکہ دار کی انجینئرنگ و لاجسٹک خدمات اور پروگرام سے متعلق دوسری معاونت شامل ہوسکتی ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں 5 ارب ڈالر کو زیادہ سے زیادہ تخمینی مالیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ حتمی قیمت اور مقدار سعودی عرب کی ضروریات، بجٹ، مذاکرات، معاہدے کی شرائط اور کانگریسی جائزے کے بعد کم یا مختلف ہوسکتی ہے۔
جے ڈی اے ایم نظام روایتی غیر رہنمائی یافتہ بموں کو سیٹلائٹ اور اندرونی نیویگیشن سے مدد لینے والی زیادہ درست رہنمائی فراہم کرتا ہے، جبکہ ایکسٹینڈڈ رینج شکل میں بم کے ساتھ ایسے پر نصب کیے جاتے ہیں جو اسے نسبتاً زیادہ فاصلے تک پہنچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ مجوزہ فروخت کی عملی تفصیل، مخصوص بموں کی قسم، ذخیرہ، استعمال کے قواعد اور ممکنہ ترسیلی شیڈول حتمی معاہدے اور متعلقہ فوجی انتظامات سے طے ہوں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ یہ فروخت امریکا کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کی حمایت کرے گی اور ایک ایسے شراکت دار ملک کی دفاعی صلاحیت بہتر بنائے گی جسے واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں سیاسی استحکام اور معاشی پیش رفت کے لیے اہم سمجھتا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق پیکیج سعودی عرب کی فضائی و داخلی دفاعی صلاحیت، موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے اور امریکی و خلیجی افواج کے ساتھ باہمی مطابقت میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ متوقع دفاعی فوائد امریکی حکومت کا پالیسی جائزہ ہیں، حاصل شدہ نتیجہ نہیں۔
ایجنسی نے کہا کہ سعودی مسلح افواج مجوزہ سازوسامان کو اپنے موجودہ نظام میں شامل کرسکتی ہیں اور اس فروخت سے خطے کے بنیادی فوجی توازن میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ کسی بھی بڑے اسلحہ پیکیج کے بارے میں یہ سرکاری قانونی و پالیسی اندازہ ہوتا ہے؛ اس کے علاقائی اثرات پر مختلف ممالک اور مبصرین کی آرا مختلف ہوسکتی ہیں۔ نوٹیفکیشن نے کسی فوری علاقائی آپریشن یا مخصوص ملک کے خلاف استعمال کا اعلان نہیں کیا۔
فارن ملٹری سیلز کے امریکی طریقۂ کار میں محکمہ خارجہ کی منظوری کے بعد ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی کانگریس کو اطلاع دیتی ہے۔ مقررہ جائزہ مدت کے دوران کانگریس معاملے کا جائزہ لے سکتی ہے اور قابل اطلاق قانون کے تحت اعتراض یا قانون سازی کی کوشش کرسکتی ہے۔ اس مرحلے کے بعد خریدار حکومت، امریکی حکام اور ممکنہ ٹھیکہ دار قیمت، مقدار، ترسیل اور معاون خدمات کی تفصیل طے کرتے ہیں۔ اس لیے نوٹیفکیشن سے اسلحہ فوری طور پر سعودی عرب نہیں پہنچ جاتا۔
سرکاری دستاویز میں یہ بھی کہا گیا کہ مجوزہ فروخت کے لیے سعودی عرب میں اضافی امریکی حکومتی یا ٹھیکہ دار نمائندوں کی مستقل تعیناتی درکار ہونے کی توقع نہیں۔ اس بیان کا تعلق پروگرام کے نفاذ سے ہے اور یہ امریکا و سعودی عرب کے دیگر فوجی تعاون، تربیتی عملے یا موجودہ تعیناتیوں کے بارے میں جامع فیصلہ نہیں۔
سعودی عرب امریکا سے طویل عرصے سے دفاعی سازوسامان خریدتا رہا ہے اور اسے امریکا نے بڑے غیر نیٹو اتحادی کا درجہ دیا ہوا ہے۔ تاہم موجودہ پیکیج کی قانونی حیثیت صرف اس مخصوص نوٹیفکیشن اور بعد کے معاہدوں سے طے ہوگی۔ ماضی کے تعلقات یا سیاسی بیانات کی بنیاد پر یہ فرض نہیں کیا جاسکتا کہ تمام 5,004 کٹس لازماً اسی مقدار، قیمت یا وقت میں فراہم ہوں گی۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت امریکی محکمہ خارجہ کی ممکنہ فروخت کی منظوری، کانگریس کو 4 ستمبر کا نوٹیفکیشن، 5,004 کے ایم یو-572 رہنمائی کٹس کی سعودی درخواست اور تقریباً 5 ارب ڈالر کی زیادہ سے زیادہ تخمینی مالیت ہے۔ حتمی معاہدہ، اصل قیمت، ترسیل کی مدت اور فراہم کردہ مقدار بعد کے مذاکرات اور قانونی مراحل کے بعد ہی واضح ہوں گے۔




