پاکستان اور کرغزستان نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات بڑھانے کے لیے تجارت کا حجم آئندہ دو سال میں 20 کروڑ امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ڈان کے مطابق یہ پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف کے بشکیک کے دورے کے دوران سامنے آئی، جہاں دونوں ممالک نے تجارت، تعاون اور ادارہ جاتی روابط سے متعلق مجموعی طور پر 17 دستاویزات پر دستخط کیے۔
دونوں قیادتوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی روابط کو زیادہ مضبوط تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات میں تبدیل کیا جائے۔ موجودہ دوطرفہ تجارت مقررہ ہدف سے خاصی کم ہے، اس لیے 20 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کے لیے کاروباری روابط، نقل و حمل، کسٹمز سہولت، ادائیگی کے ذرائع اور نجی شعبے کے درمیان رابطوں میں عملی بہتری درکار ہوگی۔ ہدف ایک حکومتی عزم ہے، حتمی تجارتی نتیجہ نہیں، اور اس کی کامیابی آئندہ دو برس کے حقیقی درآمدی و برآمدی اعداد و شمار سے ناپی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق فریقین نے وزیراعظم شہباز شریف کے موجودہ دورے کے ساتھ کرغز صدر صدیر ژاپاروف کے دسمبر 2025 کے دورۂ پاکستان اور صدر آصف علی زرداری کے جولائی 2026 کے دورۂ کرغزستان میں ہونے والی مفاہمت پر عملی عملدرآمد جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔ مسلسل اعلیٰ سطحی رابطوں کا مقصد وسطی ایشیا کے ساتھ پاکستان کی معاشی اور رابطہ کاری کی پالیسی کو آگے بڑھانا بھی ہے۔
کرغزستان پاکستان کے لیے وسطی ایشیا میں ایک ایسی منڈی اور رابطہ نقطہ ہے جہاں تجارت کے ساتھ تعلیم، سیاحت، ٹرانسپورٹ اور توانائی تعاون کے امکانات زیر بحث رہتے ہیں۔ دوسری جانب کرغز کاروباری اداروں کے لیے پاکستان کی بڑی صارف منڈی اور جنوبی ایشیائی بندرگاہوں تک ممکنہ رسائی اہم ہو سکتی ہے۔ تاہم جغرافیائی فاصلے اور براہ راست، کم لاگت زمینی و فضائی روابط کی محدود دستیابی تجارت بڑھانے میں عملی رکاوٹیں ہیں۔
دستخط شدہ 17 دستاویزات کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ متعلقہ وزارتیں اور کاروباری ادارے ان میں طے شدہ نکات کو قابل پیمائش منصوبوں، تجارتی سہولتوں اور نجی شعبے کے معاہدوں میں کس حد تک بدلتے ہیں۔ دو سالہ 20 کروڑ ڈالر ہدف دونوں ملکوں کے لیے ایک واضح پیمانہ فراہم کرتا ہے جس کے مقابل مستقبل کی پیش رفت جانچی جا سکے گی۔




