بشکیک: پاکستان اور کرغزستان نے دوطرفہ تجارت کو اگلے دو سال میں 200 ملین ڈالر سالانہ تک بڑھانے کے لیے معاہدہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف کے 2 ستمبر 2026 کے سرکاری دورۂ کرغزستان کے دوران ہوئی، جہاں انہوں نے کرغز صدر صدیر جپاروف کے ساتھ مذاکرات کیے اور دونوں رہنماؤں نے متعدد دوطرفہ دستاویزات کی نگرانی کی۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں حکومتوں کو ایک جامع ایکشن پلان تیار اور نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس منصوبے میں باہمی تجارتی طریقہ کار بہتر بنانا، مشترکہ سرمایہ کاری منصوبوں کی حمایت، صنعتی تعاون بڑھانا اور دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان براہِ راست روابط وسیع کرنا شامل ہوگا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مشترکہ بریفنگ میں کہا کہ موجودہ دوطرفہ تجارت تقریباً 16 ملین ڈالر سالانہ ہے، جو دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ پاکستانی رپورٹس کے مطابق ابتدائی طور پر 200 ملین ڈالر کے ہدف سے متعلق مفاہمتی یادداشت تیار کی گئی تھی، مگر وزیراعظم کی تجویز اور کرغز صدر کی رضامندی کے بعد اسے باقاعدہ معاہدے میں تبدیل کیا گیا۔ ہدف طے ہونا اپنی جگہ اہم ہے، تاہم اسے حاصل شدہ تجارتی حجم نہیں سمجھا جا سکتا؛ کامیابی کا انحصار عملی ایکشن پلان، کاروباری سودوں اور آمدورفت کی سہولت پر ہوگا۔
مشترکہ اعلامیے میں کان کنی اور معدنی پراسیسنگ، زراعت، خوراک، ٹیکسٹائل و ہلکی صنعت، ادویات، حلال صنعت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو ممکنہ تعاون کے شعبوں کے طور پر شناخت کیا گیا۔ دونوں جانب نے مشترکہ منصوبوں، مقامی پیداوار، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور سرمایہ کاری کے نئے ذرائع پر کام کرنے کی بات بھی کی۔ کرغز چیمبر آف کامرس اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان تعاون کی دستاویز کو کاروباری روابط بڑھانے کے فریم ورک کا حصہ بنایا گیا۔
دونوں حکومتوں نے ٹرانزٹ ٹریڈ کا معاہدہ بھی خوش آئند قرار دیا، جس کا مقصد جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان مال برداری اور رسد کے راستوں کو آسان بنانا ہے۔ اعلامیے میں موجودہ چار فریقی ٹرانزٹ معاہدے کے مؤثر نفاذ، کسٹمز و انتظامی طریقہ کار سادہ بنانے اور کرغزستان کے لیے پاکستانی بندرگاہوں کے ممکنہ استعمال پر کام جاری رکھنے کا ذکر کیا گیا۔ پاکستان پوسٹ اور کرغز پوسٹ کے درمیان ڈاک اور ای کامرس تعاون کی دستاویز بھی طے پائی۔
توانائی کے شعبے میں دونوں ملکوں نے کاسا 1000 منصوبے کی بروقت تکمیل کی اہمیت دہرائی اور بجلی، پن بجلی، قابلِ تجدید توانائی، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی پر تجاویز تیار کرنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کو فعال کرنے پر اتفاق کیا۔ تعلیم، طبی تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، سکیورٹی، ماحول اور سیاحت سے متعلق الگ دستاویزات بھی مشترکہ اعلامیے میں درج ہیں۔ لاہور اور کرغز شہر اوش کے درمیان سسٹر سٹی تعلق قائم کرنے کا معاہدہ بھی اسی دورے میں ہوا۔
200 ملین ڈالر کا تجارتی ہدف دونوں حکومتوں کے اعلان اور معاہدے میں درج ہے، مگر اس کے لیے مصنوعات کی فہرست، ٹیرف و نان ٹیرف رکاوٹوں، نقل و حمل کی لاگت، بینکاری سہولت اور مخصوص سالانہ اہداف کی مزید تفصیل درکار ہوگی۔ آئندہ پیش رفت کا اندازہ سرکاری تجارتی اعدادوشمار اور ایکشن پلان کے نفاذ سے کیا جا سکے گا۔




