بشکیک: پاکستان اور کرغزستان نے باہمی تجارت کا سالانہ حجم دو سال میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کے لیے باقاعدہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدہ وزیراعظم شہباز شریف کے تین روزہ دورۂ کرغزستان کے اختتام پر بشکیک میں ہوا، جہاں انہوں نے کرغز صدر صدیر جاپاروف کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات اور مختلف شعبوں میں تعاون کی دستاویزات کے تبادلے میں شرکت کی۔
وزیراعظم کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ سالانہ تجارت تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہے۔ ابتدا میں 20 کروڑ ڈالر کے ہدف کے لیے مفاہمتی یادداشت تیار کی گئی تھی، لیکن شہباز شریف نے اسے باقاعدہ معاہدے میں تبدیل کرنے کی تجویز دی، جسے کرغز صدر نے قبول کیا۔ اس کے بعد روانگی سے قبل ہوائی اڈے پر معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
دونوں حکومتیں اب ایک جامع عملی منصوبہ تیار کریں گی جس میں تجارتی طریقہ کار بہتر بنانے، مشترکہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، صنعتی تعاون بڑھانے اور دونوں ملکوں کے کاروباری اداروں کے براہ راست رابطے وسیع کرنے کے اقدامات شامل ہوں گے۔ 20 کروڑ ڈالر ایک طے شدہ ہدف ہے، مکمل شدہ تجارتی حجم نہیں؛ اس کے حصول کا انحصار برآمدی مصنوعات، نقل و حمل، مالیاتی سہولت، کسٹمز عمل اور نجی شعبے کی حقیقی تجارت پر ہوگا۔
پاکستان اور کرغزستان نے ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کا بھی خیر مقدم کیا، جس کا مقصد سامان کی دوطرفہ اور علاقائی نقل و حرکت آسان بنانا ہے۔ مشترکہ بیان میں ٹرانسپورٹ، کسٹمز اور انتظامی طریقہ کار سادہ بنانے اور پاکستان کی بندرگاہوں کو کرغزستان کی جنوبی ایشیائی و عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے استعمال کرنے میں دلچسپی ظاہر کی گئی۔ اسی طرح کرغزستان کو پاکستان کے لیے وسطی ایشیا اور وسیع یوریشیائی خطے تک ممکنہ رابطہ پل قرار دیا گیا۔
دونوں جانب نے تجارت، اقتصادی، سائنسی اور تکنیکی تعاون کے بین الحکومتی کمیشن کو زیادہ مؤثر بنانے اور سرکاری اداروں، مالیاتی تنظیموں اور کاروباری برادریوں کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ مشترکہ کاروباری کونسل کو تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی منصوبوں کے لیے براہ راست روابط بڑھانے کی ذمہ داری دینے کی بات بھی کی گئی۔
جن شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کی گنجائش بیان کی گئی ان میں ادویات، زراعت، خوراک، ٹیکسٹائل و ہلکی صنعت، توانائی، سیاحت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور ای کامرس شامل ہیں۔ پاکستان پوسٹ اور کرغز پوسٹ نے ڈاک اور ای کامرس میں تعاون کی دستاویز پر دستخط کیے، جبکہ دونوں ملکوں کے ایوان ہائے صنعت و تجارت کے درمیان کاروباری روابط بڑھانے کا معاہدہ بھی ہوا۔
توانائی کے شعبے میں دونوں ملکوں نے کاسا 1000 منصوبے کے بروقت نفاذ کی اہمیت دہرائی اور بجلی، پن بجلی، قابل تجدید توانائی، توانائی ڈھانچے اور جدید ٹیکنالوجی پر مشترکہ ورکنگ گروپ کا خیر مقدم کیا۔ کاسا 1000 وسطی ایشیا سے جنوبی ایشیا تک بجلی کی ترسیل کا کثیر ملکی منصوبہ ہے؛ تازہ بیان میں اس سے متعلق کسی نئی تجارتی بجلی کی تاریخ یا قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا۔
دورے کے دوران لاہور اور اوش کو جڑواں شہر بنانے، خارجہ امور، تعلیم، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی، ماحول، سیاحت، دفاعی تعلیم، منشیات کی غیر قانونی تجارت کے خلاف تعاون اور قانونی معاونت سمیت متعدد دستاویزات کا بھی تبادلہ ہوا۔ ان میں سے ہر مفاہمتی یادداشت کی نوعیت اور نفاذ کا طریقہ الگ ہے اور انہیں فوری طور پر مکمل منصوبہ یا مالی سرمایہ کاری نہیں سمجھا جا سکتا۔
اگلا اہم مرحلہ 20 کروڑ ڈالر کے ہدف کے لیے مصنوعات، اداروں، سہ ماہی اہداف اور ذمہ دار حکام پر مشتمل قابل پیمائش ایکشن پلان بنانا ہوگا۔ دونوں ممالک نے سیاسی عزم اور معاہدہ تو ظاہر کر دیا ہے، لیکن ہدف کی پیش رفت آئندہ دو برس کے سرکاری تجارتی اعداد، کسٹمز ڈیٹا اور نجی شعبے کے معاہدوں سے جانچی جائے گی۔




