اسلام آباد: پاکستان اور لبنان نے داخلی سلامتی، انسداد دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی امیگریشن، منی لانڈرنگ اور سائبر کرائم کے خلاف باہمی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور لبنان کے وزیر داخلہ احمد الحجار کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات اور وفود کی سطح کے مذاکرات میں سامنے آئی۔

مذاکرات میں دونوں ملکوں کی وزارت داخلہ کے درمیان تعاون کے لیے ایک نئی مفاہمتی یادداشت پر جلد دستخط کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا۔ موجودہ انسداد منشیات مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔

پاکستان اور لبنان نے پولیس اکیڈمیوں اور تربیتی پروگراموں کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی بات کی تاکہ پیشہ ورانہ تجربات، تربیتی طریقہ کار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مہارت کا تبادلہ ممکن ہو۔ مذاکرات میں سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا فری داخلے کی سہولت سے متعلق معاملہ بھی زیر غور آیا۔ دونوں ممالک نے باہمی رابطے کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے فوکل پرسنز مقرر کرنے کی سمت پیش رفت پر اتفاق کیا۔

لبنانی وزیر داخلہ نے اپنے دورے کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ اسحاق ڈار نے لبنان کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔

یہ مذاکرات ایسے وقت ہوئے ہیں جب مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال اور سرحد پار جرائم کے خطرات علاقائی تعاون کی اہمیت بڑھا رہے ہیں۔ انٹیلی جنس شیئرنگ اور ادارہ جاتی روابط کے عملی نتائج کا انحصار مجوزہ ایم او یو کی تفصیلات، معلومات کے تبادلے کے محفوظ طریقہ کار اور دونوں ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مستقل رابطے پر ہوگا۔ فریقین نے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، تاہم آئندہ مرحلے میں طے شدہ انتظامات کو عملی شکل دینا بنیادی امتحان ہوگا۔