اسلام آباد: مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی مارکیٹ سے وابستہ نمائندوں نے حالیہ قیمتوں میں تیزی اور سرحدی رسد میں رکاوٹ کے بعد حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کے نرخ ماہانہ پیشگی نوٹیفکیشن کے بجائے روزانہ یا ہفتہ وار بنیاد پر مقرر کیے جائیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ قیمت سازی کا نظام زمینی رسد، فریٹ اور درآمدی لاگت میں تیز تبدیلیوں کی درست عکاسی نہیں کر رہا۔
مارکیٹ نمائندوں کے مطابق رحیم داد-250 سرحدی راستے کی بندش اور ایران کے ساتھ تجارت سے متعلق حالیہ انتظامی تبدیلیوں کے باعث رسد متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 4,500 ٹن سے زیادہ ایل پی جی ایرانی جانب پھنسنے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے ساتھ تفتان کا راستہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کئی ماہ سے بند بتایا گیا ہے جبکہ مند کے راستے میں بھی وقفے وقفے سے رکاوٹیں آتی رہی ہیں۔
ایل پی جی مارکیٹنگ ایسوسی ایشن کے نائب چیئرمین محمد علی حیدر نے کہا کہ ہفتے کے اختتام پر قیمت میں تقریباً 100 روپے فی کلو اضافہ دیکھا گیا اور فوری مداخلت نہ ہونے کی صورت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ قیمت اور رسد سے متعلق اعداد صنعت کے نمائندے کے بیان پر مبنی ہیں؛ حکومت یا اوگرا کی جانب سے تمام دعوؤں کی الگ تصدیق دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں تھی۔
صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایل پی جی کی سالانہ کھپت تقریباً 20 لاکھ ٹن ہے، جس کا لگ بھگ 30 فیصد مقامی پیداوار اور 70 فیصد درآمد سے پورا ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق درآمدی مقدار کا بڑا حصہ ایران سے ملحق راستوں کے ذریعے آتا رہا ہے، جبکہ پورٹ قاسم کے ذریعے بھی سپلائی ہوتی ہے۔ سرحدی رکاوٹوں کے باعث گوادر کی سمت دباؤ اور مال برداری کے اخراجات بڑھنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
مارکیٹ نمائندوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایل پی جی کی قیمت کو سعودی آرامکو کی کنٹریکٹ پرائس سے براہ راست منسلک رکھنے کے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ ان کے مطابق عملی درآمدی ذرائع ایران، عمان، متحدہ عرب امارات اور عراق سمیت مختلف منڈیوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ایک ہی بیرونی بینچ مارک موجودہ لاگت کی مکمل نمائندگی نہیں کرتا۔
رپورٹ کے مطابق وزارت تجارت کے 16 اکتوبر کے اقدامات نے ایران سے بعض درآمدات کے لیے الیکٹرانک امپورٹ فارم کی چھوٹ واپس لے لی، جس کے بعد صنعت نے سپلائی میں مزید رکاوٹ کی شکایت کی۔ ایل پی جی نمائندوں نے اوگرا کی ویب سائٹ پر روزانہ قیمتوں کی اشاعت، درآمد اور تقسیم کی ڈیجیٹل ٹریکنگ اور مارکیٹنگ مارجن سمیت پالیسی کے وسیع جائزے کی تجویز دی ہے۔ وزارت پٹرولیم کے متعلقہ حکام کا جواب رپورٹ کی اشاعت تک موصول نہیں ہوا تھا، اس لیے یہ مطالبات فی الحال صنعت کی تجاویز ہیں، کوئی منظور شدہ سرکاری پالیسی تبدیلی نہیں۔

