پاکستان میں مائع پیٹرولیم گیس کی رسد میں شدید کمی کے باعث بعض مارکیٹوں میں ایل پی جی کی قیمت سرکاری نرخ سے دوگنا سے بھی زیادہ ہو کر 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ جیو نیوز کی 21 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق گھریلو سلنڈر کی قیمت بعض مقامات پر تقریباً 7,200 روپے تک جا پہنچی، جبکہ پہلے یہ تقریباً 3,350 روپے میں دستیاب تھا۔

رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان اپنی ایل پی جی ضرورت کا تقریباً 70 فیصد درآمد کرتا ہے اور درآمدی مقدار کا بڑا حصہ ایران سے آتا رہا ہے۔ سرحدی اور رسدی مسائل کے باعث مارکیٹ میں دستیابی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں خوردہ سطح پر قیمتوں میں تیز اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مختلف شہروں اور دکانداروں کے نرخ مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے 600 روپے فی کلو کو پورے ملک کی یکساں سرکاری قیمت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

پیٹرولیم وزیر نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں رسد بہتر ہونے کے ساتھ قیمتوں میں کمی آنا شروع ہو سکتی ہے۔ حکومت نے ایل پی جی کی درآمد میں براہ راست کردار ادا کرنے اور متبادل ذرائع سے سپلائی بڑھانے کے اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔ اس کا مقصد مارکیٹ میں دستیابی بڑھانا اور غیر معمولی قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنا بتایا گیا ہے۔

ایل پی جی ان علاقوں اور گھرانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے جہاں پائپ لائن گیس دستیاب نہیں یا سردیوں میں گیس کی فراہمی محدود ہوتی ہے۔ اسی طرح چھوٹے کاروبار اور بعض ٹرانسپورٹ صارفین بھی اس ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔ قیمت میں تیز اضافہ کم اور متوسط آمدن والے صارفین کے گھریلو بجٹ پر فوری اثر ڈال سکتا ہے۔

موجودہ بحران میں سرکاری نرخ، اصل مارکیٹ قیمت اور دستیابی کے درمیان نمایاں فرق کی اطلاعات ہیں۔ حکومت کے درآمدی اقدامات کے اثرات رسد پہنچنے اور تقسیم بہتر ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ غیر محفوظ سلنڈروں یا غیر معیاری ری فلنگ سے گریز کریں، کیونکہ قلت کے ادوار میں حفاظتی ضابطوں کی خلاف ورزی کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔