پنجاب کابینہ نے صوبے میں صنعتی ترقی اور برآمدات بڑھانے کے لیے تقریباً 1.995 ٹریلین روپے کے PIVOT پروگرام کی اہم خصوصیات کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کیے گئے منصوبے کا مکمل نام Punjab Innovative for Value, Opportunity and Transformation ہے اور اس میں صنعتی انفراسٹرکچر، کلسٹر ڈویلپمنٹ، برآمدی مسابقت اور ویلیو چین کی تبدیلی پر توجہ دی گئی ہے۔
ڈان کے مطابق پروگرام کے ذریعے 162 ہزار سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ منصوبے میں موجودہ صنعتوں کی معاونت، ای بزنس اور ای کامرس، گارمنٹس، پلگ اینڈ پلے صنعتی سہولیات اور چمڑے، جوتوں اور کھیلوں کے سامان کے لیے ٹیسٹنگ و سرٹیفکیشن خدمات شامل ہیں۔ کٹلری، ہاتھ سے بننے والے اوزار، سیرامکس اور پنکھا سازی کی صنعت کے لیے مٹیریل ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کی تجاویز بھی پروگرام کا حصہ ہیں۔
زرعی اور دیہی معیشت کے لیے بھی متعدد اقدامات منظور کیے گئے۔ حکومت 10 ہزار ایکڑ پر منکیرہ اور لیہ میں ڈرپ اریگیشن، شمسی توانائی، پانی ذخیرہ کرنے اور دیگر سہولیات کے لیے 7.6 ارب روپے فراہم کرے گی۔ گرین ٹریکٹر پروگرام کے چوتھے مرحلے میں مزید 10 ہزار ٹریکٹروں پر سبسڈی کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
کابینہ نے اپنا چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت بینک آف پنجاب کے ذریعے 40 ہزار قرضوں کے لیے 60 ارب روپے کی مختص رقم کی منظوری دی۔ اجلاس میں صحت کے شعبے کے واجبات، کلینک آن وہیلز گاڑیوں کی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو فراہمی، ٹریفک جرمانوں میں ترامیم اور فضائی معیار کے منصوبے کے تحت الیکٹرک ٹرکس اور اینٹی سموگ گنز کے لیے اقدامات بھی منظور کیے گئے۔
PIVOT کے سرمایہ کاری اور روزگار کے اعداد پالیسی اہداف ہیں، حاصل شدہ نتائج نہیں۔ پروگرام کی حقیقی کامیابی فنڈز کے اجرا، نجی سرمایہ کاری، منصوبوں کے بروقت نفاذ، برآمدی آرڈرز اور صنعتی پیداوار میں قابل پیمائش اضافے سے جانچی جائے گی۔ کابینہ کی منظوری کے بعد مختلف اجزا کے لیے انتظامی اور مالی عملدرآمد الگ مراحل میں آگے بڑھے گا۔

