یورپی یونین نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ GSP+ تجارتی سہولت کے فوائد جاری رکھنے کے لیے مزید قانون سازی کے بجائے موجودہ وعدوں کے مؤثر اور قابلِ پیمائش نفاذ کو ترجیح دی جائے۔ پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر ریمنڈاس کاروبلس نے کراچی میں پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے نمائندوں سے ملاقات میں کہا کہ یورپی بلاک اسکیم کے تحت نئے معیار متعارف نہیں کرا رہا، تاہم انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور دیگر طے شدہ شعبوں میں واضح عملی بہتری کی توقع رکھتا ہے۔
GSP+ یورپی یونین کا خصوصی تجارتی انتظام ہے جس کے تحت اہل ترقی پذیر ممالک متعدد مصنوعات یورپی منڈی میں صفر یا کم ٹیرف پر برآمد کر سکتے ہیں۔ اس کے بدلے متعلقہ ممالک انسانی حقوق، مزدور حقوق، ماحولیات اور اچھی حکمرانی سے متعلق بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کے پابند ہوتے ہیں۔ پاکستان 2014 سے اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور ٹیکسٹائل و ملبوسات اس کے سب سے بڑے مستفید شعبوں میں شامل ہیں۔
یورپی یونین کا نیا GSP فریم ورک یکم جنوری 2027 سے نافذ ہونا ہے، جبکہ موجودہ مستفید ممالک کو عبوری انتظامات کے تحت 2028 کے اختتام تک دوبارہ درخواست دینا ہوگی۔ سفیر کے مطابق فوری ترجیح مختصر مدت میں قابلِ مشاہدہ بہتری اور اس کے بعد واضح اقدامات، مدت اور قابلِ پیمائش اشاریوں پر مبنی قابلِ اعتبار ایکشن پلان ہونا چاہیے۔
یورپی یونین کی 2023 سے 2025 کی مانیٹرنگ رپورٹ میں پاکستان کو GSP+ کا سب سے بڑا مستفید ملک قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں پاکستان نے تقریباً 7.5 ارب یورو کی اہل برآمدات یورپی یونین کو بھیجیں اور اندازاً 73 کروڑ 20 لاکھ یورو کی ٹیرف چھوٹ سے فائدہ اٹھایا۔ مستقبل کی ترجیحات میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی، تشدد اور جبری گمشدگیوں سے متعلق اقدامات، آزادی اظہار، خواتین اور بچوں کے حقوق، جبری و کم عمر مزدوری، اقلیتوں کے تحفظ اور انسداد بدعنوانی اداروں کی خودمختاری جیسے موضوعات شامل ہیں۔
پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے GSP+ کے تسلسل کو برآمدات، روزگار اور وسیع صنعتی سپلائی چین کے لیے اہم قرار دیا۔ صنعت کے نمائندوں نے ساتھ ہی یورپی ضابطوں، ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ اور سپلائی چین کی نگرانی سے متعلق تقاضوں پر مزید وضاحت کی ضرورت اٹھائی۔ اس مرحلے پر GSP+ کی حیثیت ختم ہونے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا؛ گفتگو آئندہ فریم ورک کے لیے پاکستان کی اہلیت اور عمل درآمد کی تیاری سے متعلق ہے۔

