وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے مالیاتی نظم، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور مہنگائی میں کمی کے ذریعے میکرو اکنامک استحکام کو مضبوط کیا ہے، تاہم حالیہ سیلاب کے اثرات کے باعث رواں مالی سال معاشی نمو تقریباً 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ انہوں نے یہ بات سی جی ٹی این امریکا کو انٹرویو میں کہی، جس کی تفصیلات ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے 22 اکتوبر کو جاری کیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر اس سطح تک پہنچ گئے ہیں جو تقریباً ڈھائی ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں، مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے اور پالیسی ریٹ گزشتہ سطح کے مقابلے میں نصف ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں فچ، ایس اینڈ پی اور موڈیز نے رواں سال پاکستان سے متعلق اپنی ریٹنگ یا آؤٹ لک میں بہتری کی ہے۔ یہ اعداد و دعوے وزیر خزانہ کے بیان پر مبنی ہیں اور معاشی صورتحال کی مکمل تصویر کے لیے آئندہ سرکاری شماریاتی اعداد و شمار اور مالی سال کے نتائج اہم ہوں گے۔
محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے دوسرے جائزے اور اصلاحاتی ایجنڈے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس، توانائی، سرکاری مالیات اور نجکاری میں ساختی اصلاحات جاری ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان ڈھائی برس کے وقفے کے بعد تجارتی قرض مارکیٹوں میں واپس آیا ہے اور سال کے اختتام سے پہلے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا کا منصوبہ رکھتا ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق گزشتہ ماہ 500 ملین ڈالر کا یورو بانڈ واجب الادا ادائیگی کے مطابق ادا کیا گیا جبکہ اگلے سال اپریل میں 1.3 ارب ڈالر کی ایک اور ادائیگی کے لیے بھی حکومت خود کو تیار سمجھتی ہے۔
سیلاب کے معاشی اثرات پر انہوں نے کہا کہ تین بڑے دریاؤں میں سیلاب سے چاول اور کپاس سمیت زرعی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ حکومت نے پہلے رواں سال 4 فیصد سے کچھ زیادہ شرح نمو کا اندازہ لگایا تھا، لیکن ان نقصانات کے بعد اب تقریباً 3.5 فیصد نمو کی توقع کی جا رہی ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو پاکستان کے لیے بنیادی اور مسلسل معاشی خطرہ قرار دیا۔
وزیر خزانہ نے سی پیک کے دوسرے مرحلے کو صنعتی تعاون اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے جوڑا۔ ان کے مطابق وزیراعظم کے حالیہ دورۂ چین کے دوران 24 مشترکہ منصوبوں کے معاہدے ہوئے اور نئی توجہ معدنیات، کان کنی، زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور ادویات سمیت مختلف شعبوں پر ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل ٹیکس انتظامیہ کے بارے میں کہا کہ اے آئی اور ڈیٹا اینالیٹکس کے استعمال نے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو 8.8 فیصد سے 10.2 فیصد تک بڑھانے میں مدد دی۔
حکومتی موقف میں استحکام اور اصلاحات کی پیش رفت پر زور دیا گیا ہے، لیکن 3.5 فیصد نمو فی الحال وزیر خزانہ کی توقع ہے، حتمی نتیجہ نہیں۔ سیلاب سے زرعی نقصانات، بیرونی مالی ضروریات، توانائی اور ٹیکس اصلاحات کی رفتار اور عالمی تجارت کی صورتحال مالی سال کے اختتام تک اصل نمو اور عوامی سطح پر معاشی بحالی کی شدت کا تعین کریں گے۔

