چینی برقی گاڑی ساز کمپنی BYD پاکستان میں اپنے کاروبار کے ابتدائی مرحلے میں درآمدی گاڑیوں پر انحصار کرے گی، جبکہ طویل مدت میں گاڑی کے 80 فیصد تک حصوں کو مقامی سطح پر تیار کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق حب پاور کمپنی سے وابستہ منصوبے کی حکمت عملی میں پہلے مارکیٹ اور فروخت کا حجم بڑھانا اور اس کے بعد مقامی اسمبلی اور پرزہ جات کی تیاری میں اضافہ شامل ہے۔

پاکستان میں برقی اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی مارکیٹ تیزی سے بدل رہی ہے۔ نئی کمپنیوں کی آمد، حکومت کی مجوزہ آٹو پالیسی اور ایندھن کی بلند قیمتیں صارفین اور سرمایہ کاروں کی توجہ متبادل پاور ٹرین گاڑیوں کی طرف بڑھا رہی ہیں۔ تاہم مقامی پیداوار کے لیے کافی فروخت، سپلائی چین، تربیت یافتہ افرادی قوت اور پرزہ ساز صنعت کی صلاحیت ضروری ہے۔

ابتدائی درآمدی ماڈل کمپنی کو پاکستان میں مختلف گاڑیوں کی طلب جانچنے اور ڈیلرشپ و بعد از فروخت نیٹ ورک بنانے کا موقع دیتا ہے۔ دوسری طرف درآمدی گاڑیاں شرح مبادلہ، کسٹمز ڈیوٹی اور عالمی لاجسٹکس سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ مقامی اسمبلی اور پرزہ جات کی تیاری بڑھنے سے طویل مدت میں لاگت اور درآمدی انحصار کم ہو سکتا ہے، بشرطیکہ مقامی سپلائر معیار اور حجم کی ضروریات پوری کر سکیں۔

80 فیصد لوکلائزیشن طویل مدتی ہدف ہے، فوری موجودہ تناسب نہیں۔ اسے حاصل کرنے کے لیے بیٹری، الیکٹرونکس، موٹر، باڈی پارٹس اور دیگر اجزا کے مختلف درجوں پر مقامی سپلائی چین تیار کرنا ہو گی۔ برقی گاڑیوں میں بعض اہم اجزا روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ تکنیکی اور سرمایہ طلب ہوتے ہیں، اس لیے مکمل مقامی تیاری مرحلہ وار ہونے کا امکان ہے۔

BYD اور حبکو کے منصوبے کی کامیابی پاکستان کی آٹو پالیسی، ٹیکس ڈھانچے، چارجنگ انفراسٹرکچر اور صارفین کی قوت خرید سے بھی منسلک ہو گی۔ کمپنی کے بیان کردہ مقامی تیاری کے ہدف کو مستقبل کی کاروباری حکمت عملی سمجھنا چاہیے؛ اصل پیش رفت پلانٹ کی پیداوار، مقامی پرزہ جات کے معاہدوں اور فروخت کے عملی اعداد و شمار سے واضح ہو گی۔