اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر حوثی حملوں اور یمن کے تنازع کے اثرات سرحد پار پھیلنے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سہ فریقی مکہ دفاعی معاہدے کی شقیں فعال ہو سکتی ہیں۔ ان کا بیان سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں کے بعد سامنے آیا، جن میں سعودی حکام کے مطابق درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

خواجہ آصف نے ایک ٹی وی پروگرام میں سوال کے جواب میں کہا کہ معاہدے کی نوعیت مشترکہ دفاع کی ہے اور اس میں ایک رکن پر جارحیت کو تمام فریقوں کے خلاف جارحیت تصور کرنے کا اصول شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان معاہدے کی شرائط کا پابند ہے اور ضرورت پیش آنے پر ان کی پاسداری کرے گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں حملوں کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کسی مخصوص رابطے کا علم نہیں۔

مکہ دفاعی اتحاد پر 7 اگست کو دستخط کیے گئے تھے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق اس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت اور اجتماعی بازدارندگی مضبوط کرنا ہے۔ وزیر دفاع نے زور دیا کہ معاہدہ جارحانہ نوعیت کا نہیں بلکہ رکن ممالک کے خلاف حملے کی صورت میں مشترکہ مدد اور دفاع کیلئے ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے کی صورتحال قابو میں آ جائے گی اور مزید پھیلاؤ نہیں ہوگا۔

خواجہ آصف نے حوثیوں کو غیر ریاستی عناصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یمن کی داخلی صورت حال کو سعودی عرب تک پھیلانے کی کوشش معاہدے کی دفاعی شقوں کو متحرک کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی رکن ریاست کے خلاف بلااشتعال جارحیت ہوتی ہے تو باقی فریق معاہدے کے مطابق ردعمل کے پابند ہوں گے۔

یہ بیان معاہدے کے ممکنہ اطلاق سے متعلق وزیر دفاع کی تشریح ہے؛ دستیاب رپورٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ پاکستان نے کسی فوجی کارروائی کا حکم دے دیا ہے یا معاہدہ باضابطہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ اسی لیے اس مرحلے پر اسے ممکنہ دفاعی ذمہ داری اور پالیسی موقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی تصدیق شدہ پاکستانی فوجی مداخلت کے اعلان کے طور پر۔