پاکستان نے مالدیپ کے ساتھ حلال خوراک، زرعی مصنوعات، ٹیکسٹائل، ادویات، طبی آلات اور سیاحت کے شعبوں میں کاروباری تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اسلام آباد میں پاکستان مالدیپ بزنس فورم کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مالدیپ خوراک، صحت، تعمیرات اور سیاحتی صنعت سے متعلق مصنوعات کے لیے اہم منڈی ہے اور پاکستان اپنی زرعی اور صنعتی صلاحیت کے ذریعے ان ضروریات کا بڑا حصہ پورا کر سکتا ہے۔

وزیر تجارت کے مطابق پاکستان معیاری چاول، گوشت، حلال خوراک اور پراسیس شدہ زرعی مصنوعات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو مالدیپ کے گھریلو صارفین کے ساتھ اس کی وسیع ہاسپیٹیلٹی صنعت کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے ادویات اور طبی آلات میں تعاون کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کے جراحی آلات کی برآمدی صلاحیت کی طرف بھی توجہ دلائی۔ ٹیکسٹائل کو انہوں نے پاکستان کے اہم برآمدی شعبوں میں شمار کیا اور کہا کہ پاکستانی صنعت مالدیپ کے معیار، سرٹیفکیشن اور ہاسپیٹیلٹی سیکٹر کی مخصوص ضروریات کے مطابق مصنوعات فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے سکتی ہے۔

یہ بزنس فورم مالدیپ کے صدر محمد معیزو کے پاکستان کے دورے کے موقع پر منعقد ہوا۔ دونوں ممالک کی قیادت نے دوطرفہ تجارت کو موجودہ تقریباً 13 ملین ڈالر سے بڑھا کر دو سال میں 200 ملین ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس دورے میں ہوا بازی، زراعت، صحت، سیاحت اور میری ٹائم سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں 20 تعاون دستاویزات کا تبادلہ بھی ہوا۔ مالدیپ کے صدر نے پاکستانی دوا ساز کمپنیوں، طبی خدمات فراہم کرنے والوں، تعمیراتی اور انجینئرنگ کمپنیوں کو اپنے ملک میں مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔

جام کمال خان نے مالدیپ کی ہاسپیٹیلٹی صنعت کے بلند معیار کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اشیا کی تجارت سے آگے بڑھ کر سیاحت اور خدمات میں بھی شراکت بڑھا سکتے ہیں۔ پاکستان کے لیے مالدیپ کی چھوٹی مگر درآمدات پر منحصر معیشت خوراک اور صحت سے متعلق مصنوعات کے لیے ایک مخصوص منڈی فراہم کرتی ہے، جبکہ مالدیپ کی سیاحتی مہارت پاکستانی کاروباروں کے لیے خدمات اور معیار کے شعبے میں تعاون کے امکانات پیدا کرتی ہے۔

200 ملین ڈالر کا تجارتی ہدف سیاسی سطح پر طے کیا گیا ہے، تاہم اسے حاصل کرنے کے لیے نجی شعبے کے معاہدوں، براہ راست رابطوں، نقل و حمل اور مارکیٹ رسائی کے عملی اقدامات درکار ہوں گے۔ موجودہ فورم میں شعبہ جاتی مواقع اجاگر کیے گئے ہیں؛ کسی ایک مخصوص برآمدی معاہدے کی حتمی مالیت کا اعلان نہیں کیا گیا۔