اسلام آباد میں یکم اکتوبر کو پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ 2026 کا آغاز ہوا، جہاں وفاقی حکومت نے قومی ذہنی صحت پالیسی کا اجرا کیا۔ سرکاری پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق پالیسی کا بنیادی مقصد ذہنی صحت کی دیکھ بھال کو ملک بھر میں زیادہ قابل رسائی بنانا اور اسے صرف بڑے شہری و تدریسی اسپتالوں تک محدود رکھنے کے بجائے خاندانوں اور کمیونٹی کے قریب لانا ہے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ذہنی صحت صرف شعبہ صحت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے، جس کے لیے صحت، تعلیم، کمیونٹی اداروں اور دیگر شعبوں کے درمیان مربوط اقدامات درکار ہوں گے۔ سرکاری بیان کے مطابق پالیسی کو اسی سوچ کے تحت تیار کیا گیا ہے کہ ذہنی بیماریوں کی روک تھام، بروقت تشخیص، علاج اور بحالی کو ایک مربوط نظام کا حصہ بنایا جائے۔
وزارت صحت کے پیش کردہ تخمینوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ افراد کو نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے، جبکہ ماہر نفسیات کی دستیابی بہت محدود ہے اور پانچ لاکھ سے زیادہ آبادی کے لیے اوسطاً ایک سے بھی کم سائیکاٹرسٹ موجود ہے۔ حکام کے مطابق ذہنی عوارض بیماری کے ساتھ گزارے جانے والے برسوں کے اعتبار سے بھی ملک پر نمایاں بوجھ ڈالتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار پالیسی کے نفاذ میں افرادی قوت، بنیادی صحت کے نظام اور ریفرل سروسز کو مضبوط بنانے کی ضرورت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
سمٹ یکم اور دو اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہی ہے اور اس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں، بین الاقوامی اداروں، ماہرین، تعلیمی اداروں، نوجوانوں، سول سوسائٹی اور ذہنی بیماری کا ذاتی تجربہ رکھنے والے افراد کی شرکت رکھی گئی ہے۔ وزارت نے اس سے قبل بتایا تھا کہ اجلاس کا موضوع بچوں، نوجوانوں اور کمیونٹیز کے لیے موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت رکھنے والے اور مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار ذہنی صحت کے نظام کی تشکیل ہے۔
پالیسی کا اجرا ایک ابتدائی قومی فریم ورک فراہم کرتا ہے، تاہم اس کے عملی اثرات کا انحصار صوبائی اور علاقائی سطح پر عمل درآمد، وسائل کی فراہمی، تربیت یافتہ عملے کی دستیابی اور بنیادی صحت کے ڈھانچے کے ساتھ ذہنی صحت کی خدمات کے انضمام پر ہوگا۔ سرکاری اعلامیے میں پالیسی کے آغاز کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ آئندہ مرحلے میں اس کے نفاذ کی تفصیلات متعلقہ حکومتوں اور اداروں کے اقدامات سے واضح ہوں گی۔

