اسلام آباد: پاکستان نے کام کی جگہوں پر حفاظت اور صحت کے معیار بہتر بنانے کے لیے نئی قومی پیشہ ورانہ حفاظت و صحت، یعنی اوکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ پالیسی، کی تیاری کا عمل تیز کر دیا ہے۔ وزارتِ اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی تکنیکی معاونت سے قومی سطح کی مشاورت منعقد کی، جس میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں، آجروں اور کارکنوں کے نمائندوں نے مجوزہ پالیسی کے مسودے اور اس کے عملی نفاذ کے فریم ورک کا جائزہ لیا۔
مجوزہ پالیسی کا دائرہ رسمی معیشت تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف شعبوں اور کم تحفظ رکھنے والے کارکنوں تک بڑھانے کی تجویز ہے۔ اس میں خواتین، نوجوان اور عمر رسیدہ کارکن، معذور افراد، تارکینِ وطن، گھر سے کام کرنے والے اور گھریلو ملازمین، زرعی مزدور اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کام کرنے والے افراد شامل ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ کام کی جگہ پر حادثات، بیماریوں اور نئے ابھرتے خطرات کی روک تھام کے لیے قومی سطح پر قابلِ عمل اصول وضع کیے جائیں۔
پاکستان میں آئی ایل او کے کنٹری ڈائریکٹر گیر ٹی ٹونسٹول کے مطابق پالیسی شواہد اور مشاورت کی بنیاد پر تیار کی جا رہی ہے، اور توجہ محض ایک دستاویز بنانے کے بجائے ایسے فریم ورک پر ہے جسے ادارے اور کام کی جگہیں عملی طور پر استعمال کر سکیں۔ 2022 میں انٹرنیشنل لیبر کانفرنس نے محفوظ اور صحت مند کام کے ماحول کو بنیادی اصول اور کام کے بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ آئی ایل او کنونشن 155 اور 187 قومی پالیسی، حادثات کی روک تھام اور مسلسل بہتری کے لیے بین الاقوامی فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔
حکام کے مطابق پاکستان کے بدلتے کام کے ماحول میں روایتی صنعتی خطرات کے ساتھ شدید گرمی، موسمیاتی تبدیلی، کیمیائی اور حیاتیاتی خطرات، نئی ٹیکنالوجی اور نفسیاتی و سماجی دباؤ جیسے مسائل بھی اہم ہو رہے ہیں۔ وفاقی سیکریٹری ندیم اسلم چوہدری نے کہا کہ معاشی ترقی کے ساتھ کارکنوں کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ نئی پالیسی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وفاق اور صوبے ذمہ داریوں، نگرانی، رپورٹنگ اور نفاذ کے قابلِ پیمائش طریقہ کار پر اتفاق کرتے ہیں اور غیر رسمی شعبے کے کارکنوں تک تحفظ کس حد تک پہنچایا جاتا ہے۔




