اسلام آباد: پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کے تناظر میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت کسی فوجی ردعمل پر بات چیت نہیں ہوئی۔ رائٹرز کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ طے پانے والے دفاعی انتظام سے وابستہ اپنی ذمہ داریوں کا پابند ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں فوری فوجی اقدام زیر بحث نہیں آیا۔
یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن میں ایران سے منسلک حوثی فورسز کے سعودی شہروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے خطے میں کشیدگی بڑھا دی ہے۔ مکہ میں گزشتہ ماہ طے پانے والے معاہدے میں اجتماعی دفاع کا اصول شامل ہے، جس کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام فریقوں کے خلاف حملے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
پاکستانی مؤقف میں معاہدے سے دستبرداری یا اس کی ذمہ داریوں سے انکار نہیں کیا گیا۔ ترجمان نے اس کے بجائے موجودہ مرحلے پر عملی فوجی ردعمل سے متعلق قیاس آرائیوں کو محدود کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی اقدام زیر بحث نہیں آیا۔ اس فرق کی اہمیت اس لیے ہے کہ دفاعی معاہدے کی عمومی ذمہ داری اور کسی مخصوص واقعے کے جواب میں فوری فوجی کارروائی دو الگ معاملات ہیں۔
پاکستان نے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت بھی کی ہے اور ایران سے کہا ہے کہ وہ حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ تاہم اسلام آباد نے یہ نہیں بتایا کہ اگر حملے جاری رہے یا صورتحال مزید بگڑی تو معاہدے کے تحت کون سے مخصوص اقدامات اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے مستقبل کے کسی ردعمل کے بارے میں فی الحال حتمی نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا۔
دفتر خارجہ نے معاہدے میں مزید ممالک کی فوری شمولیت کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تین فریق پہلے اپنے باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ خطے میں سعودی عرب پر حملوں، یمن کی جنگ اور اہم توانائی و بحری راستوں کو لاحق خطرات نے اس دفاعی بندوبست کی عملی اہمیت بڑھا دی ہے۔
پاکستان کا تازہ بیان اس وقت کی سرکاری پوزیشن متعین کرتا ہے: معاہدہ برقرار ہے اور اسلام آباد اپنی ذمہ داریوں کو تسلیم کرتا ہے، مگر سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کے جواب میں کوئی مخصوص فوجی کارروائی طے یا زیر بحث نہیں ہوئی۔




