اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پنشن کی ادائیگی سے متعلق معیاری طریقہ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے پنشنرز کی بائیومیٹرک تصدیق اور پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی جانچ کی ذمہ داری نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی، نادرا، کو منتقل کردی ہے۔ جیو نیوز نے دی نیوز کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ نئے انتظام کے تحت کمرشل بینک اب اس تصدیقی عمل کے مرکزی ذمہ دار نہیں رہیں گے۔

یہ تبدیلی ملک بھر کے 30 لاکھ سے زائد سول اور فوجی پنشنرز کے لیے اہم ہے کیونکہ پنشن جاری رکھنے کے لیے شناخت اور زندگی کی تصدیق باقاعدہ انتظامی ضرورت ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف سول پنشنرز کی تعداد 18 لاکھ 48 ہزار سے زیادہ ہے، جن میں وفاق، چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور پاکستان ریلویز کے ریٹائرڈ ملازمین شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں سول پنشنرز کی تعداد 610,823، وفاقی حکومت کے پنشنرز 399,058، سندھ میں 320,754، خیبر پختونخوا میں 225,112 اور بلوچستان میں 100,528 ہے۔ پاکستان ریلویز کے 124,230 پنشنرز بھی اس مجموعی تعداد میں شامل ہیں، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پنشنرز الگ شمار کیے گئے ہیں۔ فوجی پنشنرز کو شامل کرنے سے مجموعی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کرتی ہے۔

نئے طریقہ کار کا مقصد شناختی ڈیٹا رکھنے والے مرکزی قومی ادارے کے ذریعے تصدیق کو زیادہ یکساں بنانا ہے۔ تاہم رپورٹ میں ہر پنشنر کے لیے عملی مرحلہ، نادرا مرکز جانے کی ضرورت، آن لائن یا دور دراز تصدیق کے متبادل اور نئی ترتیب کے مکمل نفاذ کی تاریخ سے متعلق تمام تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔ اس لیے پنشنرز کو متعلقہ سرکاری ہدایات اور اپنے ادائیگی ادارے کی تازہ معلومات دیکھنا ہوں گی۔

پہلے بینک بائیومیٹرک تصدیق اور پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی توثیق کے عمل میں براہ راست کردار ادا کرتے تھے۔ ذمہ داری نادرا کو منتقل ہونے سے بینکوں کا کردار بنیادی طور پر ادائیگی تک محدود ہوسکتا ہے، جبکہ شناختی تصدیق ایک مرکزی نظام کے تحت ہوگی۔ حکومت کی جانب سے اس تبدیلی کے نتائج کا عملی جائزہ نفاذ کے بعد سامنے آئے گا، خصوصاً بزرگ پنشنرز، دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد اور بائیومیٹرک مسائل کا سامنا کرنے والوں کے لیے سہولت کی سطح اہم ہوگی۔