سندھ حکومت نے کراچی اور صوبے کے ٹرانسپورٹ نظام سے متعلق دو اہم منصوبوں، 500 الیکٹرک وہیکل بسوں کی خریداری اور ایک لاجسٹکس پارک کے قیام، کو صوبائی کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے بورڈ اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کی۔

سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں صوبے کے ماس ٹرانزٹ نظام کی توسیع، جدید اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ، لاجسٹکس پارک، الیکٹرک بسوں کی خریداری اور ٹرانسپورٹ شعبے سے متعلق دیگر امور کا جائزہ لیا گیا۔ بورڈ نے متعلقہ حکام کو دونوں منصوبوں کے لیے ضروری تکنیکی اور انتظامی مراحل مکمل کرنے کی ہدایت کی تاکہ باقاعدہ منظوری کے لیے معاملہ سندھ کابینہ کے سامنے رکھا جا سکے۔ اس مرحلے پر کابینہ کی منظوری ابھی حاصل نہیں ہوئی اور منصوبوں کے حتمی مالی و عملی خدوخال منظوری کے عمل سے مشروط ہیں۔

شرجیل میمن نے اجلاس میں کہا کہ لاجسٹکس پارک کا قیام کراچی میں بھاری ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے اور صوبے کے ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو تکنیکی اور انتظامی کارروائی جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی تاکہ عمل درآمد کے اگلے مراحل بروقت شروع کیے جا سکیں۔

اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، کمشنر کراچی حسن نقوی، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر بہزاد میمن، ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ حکام کے مطابق جدید پبلک ٹرانسپورٹ کی مزید توسیع صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

الیکٹرک بسوں کی مجوزہ خریداری شہری ٹرانسپورٹ میں کم اخراج والی گاڑیوں کا حصہ بڑھانے کی کوشش کا حصہ ہے، تاہم بسوں کی خریداری کی لاگت، مالیاتی طریقہ کار، روٹس اور فراہمی کی مدت سے متعلق مکمل تفصیلات سرکاری بیان میں نہیں دی گئیں۔ اسی طرح لاجسٹکس پارک کے مقام اور تعمیراتی شیڈول کی حتمی تفصیلات بھی آئندہ منظوری اور انتظامی کارروائی کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو منصوبوں کی حتمی منظوری کے بجائے کابینہ تک لے جانے کے فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔