لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی ان ہدایات پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے جن کے تحت پاکستان میں زیرِ تعلیم افغان میڈیکل طلبہ کو افغانستان واپس جانے کا کہا گیا تھا۔ جسٹس خالد اسحاق نے لاہور کے مختلف طبی تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم 13 افغان طلبہ کی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے عبوری حکم جاری کیا۔ درخواست گزاروں میں سات خواتین اور چھ مرد شامل ہیں۔
عدالت نے پی ایم ڈی سی کی 31 جولائی اور یکم ستمبر کی ہدایات معطل کرتے ہوئے حکم دیا کہ متاثرہ طلبہ کو اپنی تعلیم جاری رکھنے، امتحانات میں شرکت کرنے اور ہاسٹل واپس جانے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے پی ایم ڈی سی، وزارتِ صحت اور متعلقہ جامعات و میڈیکل کالجوں کے وائس چانسلرز سمیت فریقین سے جواب طلب کیا ہے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت 18 ستمبر کو مقرر کی گئی ہے۔
درخواست گزاروں کے وکیل اسد جمال نے موقف اختیار کیا کہ طلبہ کو سنے بغیر ان کے خلاف اقدام کیا گیا اور ان کے تعلیم، زندگی اور وقار سے متعلق حقوق متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایم ڈی سی کو اپنے قانونی اختیارات آئین اور متعلقہ قانون کی حدود میں استعمال کرنا ہوتے ہیں۔ دوسری جانب کونسل کے وکیل نے ہدایات کی معطلی کی مخالفت کرتے ہوئے معاملے کو قومی سلامتی سے جوڑا، تاہم عدالت نے اس مرحلے پر یہ استدلال قبول نہیں کیا۔
طلبہ نے اپنی درخواستوں میں دونوں ہدایات کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کئی برس سے پاکستان میں طبی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اچانک فیصلے کے نتیجے میں بعض طلبہ کو ہاسٹل سے بھی نکلنا پڑا۔ متعدد درخواست گزار ہائر ایجوکیشن کمیشن کے علامہ اقبال اسکالرشپ پروگرام کے تحت زیرِ تعلیم ہیں۔
اس معاملے کے پس منظر میں دفتر خارجہ نے ایک روز قبل واضح کیا تھا کہ حکومت نے تمام افغان طلبہ کو پاکستان چھوڑنے کا کوئی عمومی حکم نہیں دیا۔ ترجمان کے مطابق تسلیم شدہ تعلیمی پروگرام میں داخل اور درست ویزا رکھنے والے افغان طلبہ اپنی تعلیم مکمل کر سکتے ہیں، جبکہ پی ایم ڈی سی کی مخصوص ہدایات سے متاثرہ طلبہ کی حیثیت کے سوال پر انہوں نے معاملہ متعلقہ ریگولیٹر کی طرف بھیجا تھا۔ عدالت کا تازہ حکم حتمی فیصلہ نہیں بلکہ عبوری عدالتی ریلیف ہے؛ فریقین کے جوابات کے بعد قانونی تنازع کی مزید سماعت ہوگی۔




