اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ترکی کے شہر استنبول میں شدید سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ترک حکومت اور عوام کو پاکستان کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔ ترکی کے حکام نے حالیہ سیلاب کو استنبول میں کئی دہائیوں کے شدید ترین واقعات میں شمار کیا ہے، جبکہ سرکاری طور پر کم از کم چار ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق استنبول میں جمعرات کی صبح تک 48 گھنٹوں کے دوران اتنی بارش ہوئی جو ستمبر اور اکتوبر کی تاریخی اوسط بارش کے مجموعے سے بھی زیادہ تھی۔ شدید بارش کے نتیجے میں گھروں اور کاروباری مقامات میں پانی داخل ہوا، سڑکیں اور پارک زیر آب آئے اور متعدد گاڑیاں بہہ گئیں۔ ترک وزیر داخلہ مصطفیٰ چفتسی نے اسے 1942 کے بعد شہر کا سب سے بڑا سیلابی بحران قرار دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور جاں بحق افراد کے خاندانوں سے تعزیت کی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور لاپتہ افراد کی بحفاظت بازیابی کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان برادر ترک عوام کے ساتھ یکجہتی میں کھڑا ہے اور مشکل وقت میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

ترکی کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف میٹرولوجی نے استنبول اور چار قریبی صوبوں کے لیے ہفتے کے اختتام پر مزید شدید اور موسلا دھار بارش کی وارننگ بھی جاری کی ہے۔ اس تناظر میں امدادی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ مزید بارش سے پیدا ہونے والے خطرات، نکاسی آب اور متاثرہ علاقوں میں شہری نقل و حرکت اہم چیلنجز رہیں گے۔

پاکستان اور ترکی کے درمیان دیرینہ سیاسی، دفاعی، اقتصادی اور عوامی روابط موجود ہیں اور دونوں ممالک ماضی میں زلزلوں، سیلابوں اور دیگر قدرتی آفات کے دوران ایک دوسرے کو امداد فراہم کرتے رہے ہیں۔ پاکستان خود بھی حالیہ برسوں میں بڑے موسمیاتی واقعات کا سامنا کر چکا ہے، جن میں 2022 کے تباہ کن سیلاب اور بعد کے برسوں کی شدید بارشیں شامل ہیں۔

وزیراعظم کی جانب سے اس مرحلے پر مدد کی پیشکش کی گئی ہے، تاہم دستیاب رپورٹ میں کسی مخصوص امدادی پیکیج، سامان کی مقدار، امدادی ٹیموں کی روانگی یا مالی معاونت کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے خبر کو پاکستان کی باضابطہ یکجہتی اور تعاون کی پیشکش کے طور پر دیکھا جائے گا؛ عملی امداد کی نوعیت ترکی کی ضروریات اور دونوں حکومتوں کے آئندہ رابطوں کے بعد واضح ہوگی۔