پاکستان اور عمان نے بحری تجارت، بندرگاہی روابط، شپنگ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان حالیہ ملاقات میں بحیرہ عرب میں جغرافیائی قربت کو تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع میں تبدیل کرنے، بندرگاہوں کے درمیان روابط بہتر بنانے اور نجی شعبے کو زیادہ فعال کردار دینے کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔

پاکستان کے لیے عمان خلیجی خطے میں ایک اہم تجارتی شراکت دار اور سمندری ہمسایہ ہے۔ گوادر اور عمانی بندرگاہوں کے درمیان نسبتاً کم بحری فاصلہ خوراک، معدنیات، صنعتی مصنوعات اور دیگر اشیا کی تجارت کے لیے لاجسٹک امکانات پیدا کرتا ہے۔ حکام نے شپنگ روابط اور بندرگاہی سہولتوں میں بہتری کو دوطرفہ تجارت بڑھانے کے لیے اہم قرار دیا۔

مذاکرات میں بندرگاہی انتظام، لاجسٹکس، گودام، کولڈ چین اور ممکنہ سرمایہ کاری کے شعبوں پر بھی توجہ دی گئی۔ پاکستان اپنی بندرگاہوں کو علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ کے لیے زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ عمان بھی بحر ہند اور خلیج کے درمیان لاجسٹک مرکز کے طور پر اپنی بندرگاہی صلاحیت کو وسعت دے رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون سے ان نظاموں کے باہمی استعمال کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

بحری روابط میں اضافہ صرف سرکاری معاہدوں سے نہیں بلکہ باقاعدہ شپنگ سروسز، قابل مسابقت فریٹ لاگت، کسٹمز سہولت، کارگو حجم اور نجی کمپنیوں کی تجارتی دلچسپی سے مشروط ہوگا۔ اسی لیے حکام نے کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے براہ راست روابط کو اہم قرار دیا ہے۔ عملی منصوبوں میں پیش رفت کے لیے متعلقہ بندرگاہی اداروں اور شپنگ کمپنیوں کے درمیان تکنیکی مذاکرات درکار ہوں گے۔

حالیہ اتفاق کو کسی نئی مستقل شپنگ لائن یا مخصوص بڑے سرمایہ کاری منصوبے کی حتمی منظوری نہیں سمجھا جا سکتا جب تک متعلقہ تجارتی اور تکنیکی تفصیلات طے نہ ہوں۔ یہ تعاون بڑھانے کی پالیسی سمت اور ممکنہ شعبوں کی نشاندہی ہے۔ اگر بندرگاہی اور لاجسٹک روابط عملی طور پر بہتر ہوتے ہیں تو پاکستان اور عمان کے درمیان تجارت کے ساتھ وسطی ایشیا، خلیج اور جنوبی ایشیا کے وسیع تر علاقائی تجارتی راستوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔