نیویارک: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مزید انفرادی مستقل نشستیں قائم کرنے کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مجوزہ اصلاحات کو موجودہ عدم توازن کم کرنا چاہیے، نہ کہ تاریخی مراعات کو مزید مضبوط یا طاقت کے نئے خصوصی مراکز پیدا کرنے چاہییں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سلامتی کونسل اصلاحات سے متعلق مکمل اجلاس میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ مستقل رکنیت اور ویٹو کے موجودہ نظام نے کونسل کی فیصلہ سازی کو متاثر کیا ہے اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کے مؤثر جواب میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ ان کے مطابق مستقل ارکان کے زمرے کو مزید وسیع کرنا، خواہ نئے ارکان کو ویٹو دیا جائے یا نہ دیا جائے، ادارے میں مساوات بڑھانے کے بجائے عدم مساوات کو برقرار رکھ سکتا ہے۔

پاکستانی نمائندے نے اس کے متبادل کے طور پر منتخب اور غیر مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے کی حمایت کی۔ انہوں نے اسے زیادہ جمہوری اور جامع راستہ قرار دیا، کیونکہ ایسے ارکان مقررہ مدت کے لیے جنرل اسمبلی کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں اور مختلف خطوں کو سلامتی کونسل میں نمائندگی کا موقع ملتا ہے۔

سلامتی کونسل کی اصلاح اقوام متحدہ میں طویل عرصے سے زیر بحث موضوع ہے اور رکن ممالک میں اس بات پر اختلاف موجود ہے کہ کونسل کی نمائندگی اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مستقل یا غیر مستقل نشستوں میں کس نوعیت کی توسیع کی جائے۔ پاکستان کا بیان اسی جاری بین الحکومتی بحث کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق عثمان جدون نے واضح کیا کہ اسلام آباد ایسی اصلاحات چاہتا ہے جو کونسل کو زیادہ جواب دہ، نمائندہ اور مؤثر بنائیں۔ پاکستان کی جانب سے پیش کیا گیا مؤقف کسی نئی نشست کے فوری فیصلے کا اعلان نہیں بلکہ اقوام متحدہ میں جاری اصلاحاتی مذاکرات کے دوران ایک پالیسی پوزیشن ہے، جس پر حتمی تبدیلی کے لیے رکن ممالک کی وسیع تر منظوری درکار ہوگی۔