استنبول: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے ملاقات میں خطے کی تازہ صورتحال، امن و سلامتی کے چیلنجز اور پاکستان و ترکیہ کے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ ملاقات استنبول میں علاقائی سفارتی سرگرمیوں کے موقع پر ہوئی۔
سرکاری تفصیلات کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔ گفتگو میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل کا معاملہ بھی زیر بحث آیا اور پاکستان نے اختلافات کے پرامن حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی حمایت کا اعادہ کیا۔
اسحاق ڈار اور ہاکان فیدان نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قریبی سیاسی و سفارتی روابط کا بھی جائزہ لیا۔ دونوں ملک علاقائی معاملات پر باقاعدہ مشاورت کرتے رہے ہیں اور حالیہ ملاقات اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ سرکاری رپورٹ میں کسی نئے باضابطہ معاہدے، ثالثی فارمولے یا ایران امریکا مذاکرات کے کسی حتمی نتیجے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
علاقائی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان مسلسل یہ مؤقف پیش کرتا رہا ہے کہ تنازعات کا حل فوجی تصادم کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔ ترکیہ بھی مختلف علاقائی فریقوں کے ساتھ رابطوں میں فعال کردار ادا کرتا رہا ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات میں اسی سفارتی راستے کی حمایت نمایاں رہی۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق فریقین نے علاقائی امن اور استحکام کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں زیر بحث نکات سفارتی مشاورت اور پالیسی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں؛ ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی مذاکراتی پیش رفت یا علاقائی تنازعات میں عملی تبدیلی کا انحصار متعلقہ فریقوں کے آئندہ فیصلوں اور باضابطہ اعلانات پر ہوگا۔

