استنبول: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے استنبول میں ملاقات کی جس میں پاکستان اور ترکیہ کے دوطرفہ تعلقات اور اہم علاقائی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے دیرینہ دوستی اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

سرکاری بیان کے مطابق ملاقات میں مشرق وسطیٰ اور بالخصوص فلسطین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے علاقائی استحکام کو درپیش خطرات پر تشویش ظاہر کی گئی اور امن و سلامتی کے فروغ کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت بھی کی۔ انہوں نے علاقائی معاملات پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، جس میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت تعاون بھی شامل ہے۔ یہ بیان متعلقہ ممالک کے درمیان جاری سیاسی و سلامتی رابطوں کی عکاسی کرتا ہے؛ ملاقات میں کسی نئے دفاعی معاہدے کے دستخط کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اسحاق ڈار نے آر فور وزارتی اجلاس اور فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کے ساتھ آر فور پلس ملاقات کی میزبانی پر ہاکان فیدان کا شکریہ ادا کیا۔ یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب خطے میں سلامتی، فلسطین اور وسیع تر مشرق وسطیٰ کے حالات پر متعدد ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی فورمز پر باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔ اسحاق ڈار نے ترکیہ میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب سے جانی نقصان پر تعزیت بھی کی اور متاثرین کی جلد بحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ملاقات کے نتائج فی الحال سیاسی رابطے اور پالیسی ہم آہنگی کی صورت میں سامنے آئے ہیں، جبکہ کسی نئے عملی منصوبے یا مالی پیکیج کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔