استنبول: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے استنبول میں ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات اور خطے میں تیزی سے بدلتی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات علاقائی سفارتی سرگرمیوں کے سلسلے میں ہوئی اور دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی رابطہ جاری رکھنے پر زور دیا۔

سرکاری معلومات کے مطابق گفتگو میں پاکستان اور ترکیہ کے قریبی سیاسی اور سفارتی تعلقات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اس کے وسیع علاقائی اثرات بھی زیر بحث آئے۔ دونوں جانب سے امن، استحکام اور سفارتی رابطوں کی اہمیت پر بات کی گئی۔ ملاقات کے حوالے سے جاری تفصیلات میں کسی نئے دوطرفہ معاہدے یا مشترکہ دفاعی اقدام کی حتمی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اسحاق ڈار کا دورہ ایسے وقت ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں مختلف تنازعات اور کشیدگی نے علاقائی ممالک کے درمیان مشاورت کی ضرورت بڑھا دی ہے۔ پاکستان اور ترکیہ دونوں فلسطین کے مسئلے سمیت متعدد علاقائی معاملات پر سفارتی سطح پر رابطے رکھتے ہیں اور بین الاقوامی فورمز پر بھی کئی موضوعات پر مشترکہ یا قریب تر مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔

ملاقات میں علاقائی سلامتی پر ہونے والی گفتگو کو کسی مخصوص فوجی کارروائی یا نئے اتحاد کے فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ دستیاب سرکاری بیان بنیادی طور پر سفارتی مشاورت، دوطرفہ روابط اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون پر مرکوز ہے۔ کسی بھی حساس علاقائی معاملے پر مزید عملی پیش رفت متعلقہ حکومتوں کے باضابطہ اعلانات سے ہی واضح ہوگی۔

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارت، دفاع، تعلیم اور عوامی روابط سمیت کئی شعبوں میں تعاون موجود ہے۔ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان پالیسی رابطے کا اہم ذریعہ ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ اور وسیع تر خطے کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہو۔ استنبول کی یہ ملاقات اسی جاری سفارتی مشاورت کا حصہ ہے اور دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ علاقائی امن و سلامتی کو مرکزی موضوع بنایا۔