سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے 23 اکتوبر کو کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے یمن سے حوثی فورسز کی جانب سے داغے گئے 11 ڈرون اور ایک بیلسٹک میزائل کو روک لیا۔ اتحاد کے مطابق یہ ہتھیار سعودی عرب کی سمت بھیجے گئے تھے۔ واقعے کی تفصیلات بنیادی طور پر سعودی قیادت والے اتحاد کے بیان پر مبنی ہیں اور فوری طور پر تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں تھی۔
تازہ کارروائی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن اور سعودی عرب کے درمیان سرحدی اور فضائی کشیدگی دوبارہ نمایاں ہوئی ہے۔ سعودی حکام حوثی حملوں کو شہری آبادی، بنیادی ڈھانچے اور علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں، جبکہ حوثی تحریک اپنے حملوں کو خطے میں جاری تنازعات اور سعودی پالیسیوں کے ردعمل کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ دونوں فریقوں کے دعوؤں کو الگ الگ فریقانہ موقف کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔
سعودی اتحاد کے ترجمان سے منسوب بیان میں کہا گیا کہ فضائی دفاع نے آنے والے خطرات کا سراغ لگا کر انہیں تباہ کیا۔ فوری طور پر جانی یا بڑے مادی نقصان کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ میزائل یا ڈرون کے ممکنہ اہداف، ان کے راستوں اور تباہ کیے جانے کے مقامات سے متعلق مکمل تکنیکی تفصیلات بھی عام نہیں کی گئیں۔ ایسے واقعات میں ملبے سے ہونے والے ثانوی نقصان کی اطلاعات بعد میں سامنے آ سکتی ہیں، اس لیے ابتدائی صورتحال میں احتیاط ضروری ہے۔
یمن کی جنگ نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں خطے کی سلامتی، انسانی صورتحال اور بحیرہ احمر و خلیج کے تجارتی راستوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان براہ راست کشیدگی میں مختلف ادوار میں کمی اور اضافہ ہوتا رہا ہے، تاہم ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی نے تنازعے کو سرحدوں سے باہر تک پھیلانے کی صلاحیت دی ہے۔ حالیہ علاقائی بحران نے ان خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے اور سفارتی کوششوں پر دباؤ پیدا کیا ہے۔
پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب پر مشتمل آر فور سمیت متعدد ممالک خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے کر رہے ہیں۔ 23 اکتوبر کو استنبول میں ہونے والی علاقائی مشاورت میں بھی سعودی عرب اور یمن سے متعلق سکیورٹی صورتحال زیر بحث آنے کی توقع تھی۔ تازہ ڈرون اور میزائل واقعہ اس پس منظر میں اہم ہے کیونکہ کسی بھی بڑے جانی نقصان یا جوابی کارروائی سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ فی الحال دستیاب معلومات میں سعودی اتحاد کی جانب سے خطرات روکنے کا دعویٰ مرکزی تصدیق شدہ سرکاری بیان ہے۔

