نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 23 اکتوبر کو استنبول میں ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان سے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ ملاقات آر فور وزرائے خارجہ کے اجلاس اور یورپی ممالک کے سفارت کاروں کے ساتھ وسیع تر مشاورت سے قبل ہوئی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور ترکیہ کے دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ اور فلسطین کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے اجلاسوں کی میزبانی پر ہاکان فیدان کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی استحکام کو لاحق خطرات پر تشویش ظاہر کی اور امن و سلامتی کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت بھی کی اور علاقائی امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
آر فور گروپ میں پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ شامل ہیں۔ یہ گروپ رواں سال مارچ میں سامنے آیا اور اس کی توجہ علاقائی سلامتی اور امریکا و ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں ثالثی و سفارتی کوششوں پر رہی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق استنبول میں آر فور اجلاس کے بعد برطانیہ، فرانس اور جرمنی پر مشتمل ای تھری کے وزرائے خارجہ کے ساتھ بھی رابطہ ہونا تھا، جبکہ اٹلی کو بھی وسیع تر اجلاس میں شامل کیا گیا۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے اس فارمیٹ میں سات ممالک کی ملاقات کو پہلی نوعیت کی نشست قرار دیا۔ اس کے مطابق گفتگو میں اہم علاقائی پیش رفت، مشترکہ چیلنجز اور امن و استحکام کے لیے مربوط سفارتی راستوں کا جائزہ لیا جانا تھا۔ برطانوی وزیر خارجہ کے دفتر نے بھی اشارہ دیا کہ آبنائے ہرمز اور سعودی عرب کی صورتحال گفتگو کے نمایاں موضوعات میں شامل ہوں گے۔
اسحاق ڈار ایک روزہ دورے پر استنبول پہنچے، جہاں ترک وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل جہاد ارگینائے اور پاکستان کے ناظم الامور شائق احمد نے ان کا استقبال کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات اور دیگر ہم منصبوں کے ساتھ دوطرفہ رابطے بھی پروگرام کا حصہ تھے۔ پاکستان نے اپنی شرکت کو علاقائی تعاون، تعمیری سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل سے وابستہ اپنی پالیسی کا تسلسل قرار دیا ہے۔
