استنبول: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار ترکیہ کے شہر استنبول پہنچ گئے ہیں جہاں وہ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ کے R4 اجلاس اور اس کے بعد یورپی ممالک کی شرکت سے ہونے والے پہلے توسیعی R4+E3 وزارتی اجلاس میں شریک ہوں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ سفارتی نشستیں خطے میں بڑھتی کشیدگی اور متعدد باہم جڑے تنازعات کے پس منظر میں ہو رہی ہیں۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اسحاق ڈار ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی دعوت پر اجلاسوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ R4 نشست میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر شامل ہیں، جبکہ توسیعی فارمیٹ میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی بھی شریک ہوں گے۔ دفتر خارجہ نے اسے سات ممالک کی اس فارمیٹ میں پہلی ملاقات قرار دیا ہے۔
پاکستانی وفد کے استنبول پہنچنے پر ترک وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل سفیر جہاد ارگینائے نے اسحاق ڈار کا استقبال کیا۔ پاکستانی سفارتی مشن کے حکام بھی موجود تھے۔ دفتر خارجہ کے مطابق اجلاسوں میں اہم علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط سفارتی طریقوں کا جائزہ لیا جائے گا۔
یہ ملاقات ایسے وقت ہو رہی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، یمن کی صورتحال، خلیجی سلامتی اور اہم سمندری راستوں کے تحفظ کے بارے میں خدشات بڑھے ہوئے ہیں۔ ترک میڈیا کے مطابق فلسطین، آبنائے ہرمز، یمن اور روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کی سفارتی کوششیں بھی گفتگو میں شامل ہو سکتی ہیں۔ یہ متوقع ایجنڈا ترک میڈیا کی رپورٹنگ پر مبنی ہے؛ اجلاس کے حتمی مشترکہ نتائج اس کے اختتام کے بعد ہی واضح ہوں گے۔
توسیعی اجلاس میں ترکیہ کے ہاکان فیدان کے ساتھ جرمنی، برطانیہ، فرانس، مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ یا متعلقہ اعلیٰ نمائندے شریک ہوں گے۔ علاقائی مسلم ممالک اور اہم یورپی طاقتوں کو ایک میز پر لانے کا مقصد ان بحرانوں پر سفارتی رابطہ بڑھانا ہے جو توانائی کی ترسیل، عالمی تجارت، بحری راستوں اور علاقائی سلامتی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ اسحاق ڈار دورے کے دوران اپنے ہم منصبوں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ پاکستان نے اپنی شرکت کو تعمیری سفارت کاری، علاقائی تعاون اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم سے جوڑا ہے۔ فی الحال خبر کا تصدیق شدہ مرحلہ ڈار کی استنبول آمد اور اجلاسوں میں طے شدہ شرکت ہے؛ کسی مشترکہ اعلامیے یا نئی سفارتی مفاہمت کو اجلاس مکمل ہونے سے پہلے حتمی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
