چین کے تبت خودمختار خطے میں جمعہ کو آنے والے طاقتور زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد عمارتوں اور گھروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ چینی حکام نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیمیں روانہ کر دی ہیں اور ملبے میں ممکنہ طور پر پھنسے افراد کی تلاش جاری ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد ابتدائی ہے اور امدادی کارروائیوں کے دوران اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔
Geo News نے بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ زلزلے کے جھٹکے تبت کے پہاڑی علاقے میں محسوس کیے گئے، جہاں آبادی نسبتاً منتشر ہے اور کئی بستیاں دشوار گزار مقامات پر واقع ہیں۔ شدید جھٹکوں کے باعث بعض رہائشی عمارتیں متاثر ہوئیں اور سڑکوں و مواصلاتی نظام کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
چینی ایمرجنسی اداروں نے طبی عملہ، امدادی سامان اور تلاش و بچاؤ کی ٹیمیں متاثرہ مقامات کی طرف روانہ کیں۔ پہاڑی خطے میں کم درجہ حرارت، دشوار گزار راستے اور آفٹر شاکس امدادی کارروائیوں کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ حکام نے مقامی آبادی کو غیر محفوظ عمارتوں سے دور رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
تبت اور ہمالیائی خطہ ارضیاتی طور پر فعال زون میں واقع ہے جہاں بھارتی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت کے باعث زلزلے آتے رہتے ہیں۔ اس خطے میں مضبوط زلزلے دور دراز بستیوں کے لیے خاص طور پر خطرناک ہو سکتے ہیں کیونکہ رسائی محدود اور امدادی مراکز کے درمیان فاصلے زیادہ ہوتے ہیں۔
ابتدائی نقصان کے جائزے میں رہائشی عمارتوں، مقامی بنیادی ڈھانچے اور مواصلاتی روابط کی جانچ شامل ہے۔ حکام کے لیے فوری ترجیح زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنا، بے گھر افراد کے لیے عارضی پناہ گاہیں قائم کرنا اور متاثرہ علاقوں تک خوراک و دیگر ضروری سامان پہنچانا ہے۔
زلزلے کی شدت، مرکز اور متاثرہ آبادی سے متعلق اعداد مختلف اداروں کی مزید پیمائش کے بعد اپ ڈیٹ ہو سکتے ہیں۔ فی الحال تصدیق شدہ اہم پیش رفت کم از کم 16 ہلاکتیں اور بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیوں کا آغاز ہے۔ کسی بھی اضافی جانی نقصان یا تباہی کے حتمی اعداد چینی حکام کے جامع جائزے کے بعد سامنے آئیں گے۔

