نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار علاقائی امن اور سلامتی سے متعلق وزارتی رابطوں میں شرکت کے لیے استنبول پہنچ گئے ہیں، جہاں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر پر مشتمل R4 گروپ کا اجلاس اور یورپی ممالک کے وزرا کے ساتھ ایک وسیع تر نشست منعقد ہو رہی ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق ڈار ایک روزہ دورے کے دوران متعدد دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق R4 کے بنیادی اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ شریک ہوں گے۔ اس کے بعد یورپی شراکت داروں کے ساتھ وسیع مذاکرات ہوں گے جن میں فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے نمائندے شامل ہوں گے۔ ان رابطوں کا مرکزی محور خطے میں جاری کشیدگی، امن کی کوششیں اور سفارتی ہم آہنگی ہے۔
ڈار کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں تنازعات اور توانائی کی رسد سے متعلق خدشات نے علاقائی اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھایا ہے۔ پاکستان مختلف سفارتی فورمز پر جنگ بندی، مذاکرات اور تنازعات کے سیاسی حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔ استنبول اجلاس اسی وسیع سفارتی سلسلے کا حصہ ہے جس میں علاقائی ممالک کے ساتھ یورپی طاقتوں کو بھی بات چیت میں شامل کیا جا رہا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کریں گے اور شریک ممالک کے ہم منصبوں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت بھی متوقع ہے۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی امور کے ساتھ پاکستان کے متعلقہ ممالک سے دوطرفہ تعلقات، تجارت اور سفارتی تعاون کے موضوعات بھی زیر غور آ سکتے ہیں، تاہم اجلاسوں سے پہلے کسی مخصوص نئے معاہدے یا مشترکہ اعلامیے کے حتمی نکات جاری نہیں کیے گئے۔
R4 فارمیٹ میں چار مسلم اکثریتی ممالک کی شرکت اسے علاقائی سفارت کاری کے لیے ایک اہم رابطہ پلیٹ فارم بناتی ہے، جبکہ یورپی وزرا کی شمولیت سے بات چیت کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ فورم مشرق وسطیٰ کی سلامتی، توانائی کے بہاؤ اور سیاسی استحکام سے متعلق اپنے مؤقف کو براہ راست اہم علاقائی اور یورپی شراکت داروں تک پہنچانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
اس مرحلے پر خبر کا تصدیق شدہ پہلو ڈار کی استنبول آمد، طے شدہ وزارتی اجلاسوں میں شرکت اور مجوزہ دوطرفہ رابطے ہیں۔ مذاکرات کے عملی نتائج، مشترکہ فیصلے یا کسی نئی سفارتی پیش رفت کا تعین اجلاس مکمل ہونے اور سرکاری بیانات جاری ہونے کے بعد کیا جا سکے گا۔

