بیجنگ: چین کے تبت خودمختار خطے میں شدید زلزلے کے بعد بڑے پیمانے پر ریسکیو اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق جمعرات کی شام آنے والے 7.0 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے، جبکہ سینکڑوں مکانات کو نقصان پہنچا۔ چینی حکام نے متاثرہ علاقوں میں تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق 300 سے زیادہ مکانات منہدم ہوئے۔ متاثرہ علاقوں سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں امدادی کارکنوں کو رات کے اندھیرے میں ٹارچوں اور دیگر آلات کی مدد سے ملبے میں تلاش کرتے دیکھا گیا۔ زلزلے سے متاثرہ آبادیوں میں رسائی، زخمیوں کی منتقلی اور ممکنہ طور پر ملبے تلے دبے افراد کی تلاش ریسکیو ٹیموں کی فوری ترجیحات میں شامل ہے۔

تبت کا وسیع پہاڑی خطہ دشوار گزار جغرافیہ اور بلند مقامات کی وجہ سے ہنگامی امدادی کارروائیوں کے لیے اضافی چیلنج پیدا کر سکتا ہے۔ شدید زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا امکان بھی رہتا ہے، اس لیے متاثرہ عمارتوں اور کمزور ڈھانچوں کے قریب کام کرنے والی ٹیموں کے لیے حفاظت اہم مسئلہ ہے۔ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد ابتدائی سرکاری اطلاعات پر مبنی ہے اور ریسکیو آپریشن آگے بڑھنے کے ساتھ اس میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔

چینی قیادت نے مقامی حکام اور ہنگامی اداروں کو جانیں بچانے، زخمیوں کے علاج، متاثرین کو عارضی رہائش اور ضروری سامان فراہم کرنے اور بنیادی خدمات بحال کرنے پر توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا مکمل تخمینہ ابھی سامنے نہیں آیا۔ حکام کے لیے فوری مرحلے میں انسانی جانوں کی تلاش اور بچاؤ بنیادی ترجیح ہے، جبکہ بعد کے مرحلے میں رہائشی ڈھانچے، سڑکوں اور دیگر بنیادی انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔