اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 6 اکتوبر کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 88 پیسے فی لیٹر اضافہ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1.88 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کے تحت پٹرول 393.64 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 397.76 روپے فی لیٹر دستیاب ہوگا۔

پٹرول کی سابق قیمت 392.76 روپے فی لیٹر تھی، جو نئے نرخ کے بعد 393.64 روپے ہو گئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 399.64 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 397.76 روپے مقرر کی گئی۔ یہ نرخ 6 اکتوبر سے نافذ العمل ہیں اور حکومت کے نئے روزانہ قیمتوں کے جائزہ نظام کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔

ڈان کے مطابق حکومت پٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی مد میں مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔ عالمی تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ بھی حالیہ مہینوں میں تبدیل کیا گیا ہے۔

جیو نیوز کے مطابق حکومت نے بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کی تیز تبدیلیوں کو مقامی نرخوں میں نسبتاً جلد منتقل کرنے کے لیے روزانہ قیمتوں کے جائزے کا نظام اختیار کیا ہے۔ اس فریم ورک میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو روزانہ ایکس ڈپو قیمتیں جاری کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ قیمتوں کے حساب میں گزشتہ سات روز کے بین الاقوامی نرخوں کی اوسط استعمال کی جاتی ہے۔ جمعہ کو جاری ہونے والی قیمتیں ہفتہ اور اتوار کے لیے برقرار رہتی ہیں۔

حالیہ تبدیلی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب عالمی تیل اور ایندھن کی منڈی مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں کے خدشات سے متاثر رہی ہے۔ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کے نرخ ٹرانسپورٹ، زرعی لاگت اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں، اس لیے قیمتوں میں معمولی تبدیلی بھی صارفین اور کاروباری شعبے کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔

نئے نرخوں کے تحت پٹرول میں معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں کمی کی گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کا استعمال خصوصاً مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور بجلی پیدا کرنے کے بعض انتظامات میں زیادہ ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں کمی سے متعلق شعبوں کی لاگت پر محدود مگر فوری اثر پڑ سکتا ہے۔