اسلام آباد: پیٹرولیم قیمتوں کے نظام کا جائزہ لینے والی حکومتی کمیٹی نے پیٹرول کی قیمتوں کو جون 2027 تک مرحلہ وار مکمل ڈی ریگولیٹ کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مجوزہ نظام کے تحت قیمتوں میں یومیہ ردوبدل اور مختلف آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے درمیان مسابقت کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے، تاہم کمیٹی کی سفارشات ابھی حتمی منظوری کے لیے وزیراعظم کو پیش کی جانی ہیں۔
پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کے طریقہ کار پر بھی غور کیا گیا۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق کمیٹی نے اصولی طور پر ایسے قواعد بنانے کی حمایت کی ہے جن کے تحت غیر معمولی ہنگامی صورت حال یا ڈیزل اور خام تیل کی بین الاقوامی قیمتوں کے فرق میں شدید اضافے پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، اوگرا، ایک طے شدہ حد کے اندر قیمت کے فارمولے میں مداخلت کر سکے۔ اس سے ہر مرتبہ وفاقی کابینہ سے الگ منظوری لینے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
کمیٹی نے پیٹرول کو پہلے مرحلے میں آزاد اور مسابقتی قیمتوں کے نظام کی طرف لے جانے پر اتفاق کیا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی مکمل ڈی ریگولیشن بعد کے مرحلے میں زیر غور آئے گی۔ موجودہ نظام میں ملک بھر میں ڈپو سطح پر نسبتاً یکساں قیمت برقرار رکھنے کے لیے ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن استعمال کیا جاتا ہے۔ اجلاس میں اس مارجن کے حساب کے لیے نظرثانی شدہ طریقہ کار کا جائزہ بھی لیا گیا اور اوگرا نے مالی سال 2025-26 کے آڈٹ کو دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس میں جون میں قائم کیے گئے پیٹرولیم پرائسز اسٹیبلائزیشن فنڈ پر بھی بحث ہوئی۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق فنڈ ابھی فعال نہیں ہوا اور اس میں کوئی رقم جمع نہیں کی گئی۔ کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے مشورے میں کہا گیا کہ قیمتوں کو مصنوعی طور پر روکنے کے بجائے مناسب ایندھن ذخائر برقرار رکھنا مارکیٹ میں استحکام کے لیے زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔ کمیٹی نے اسی لیے ذخائر، شفاف قیمت سازی اور مسابقتی مارکیٹ کو ترجیح دینے کی سمت اختیار کی۔
ڈی ریگولیشن نافذ ہونے کی صورت میں صارفین کو بعض کمپنیوں کی جانب سے کم قیمت کی پیش کش مل سکتی ہے، لیکن عالمی تیل کی قیمتوں اور روپے کی قدر میں تبدیلی کا اثر بھی زیادہ تیزی سے منتقل ہو گا۔ پیٹرولیم ڈویژن کا مؤقف ہے کہ مرحلہ وار تبدیلی، واضح ہنگامی قواعد اور نگرانی کے ذریعے اچانک قیمت جھٹکوں کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ کمیٹی مزید تکنیکی مشاورت کے بعد اپنی حتمی رپورٹ وزیراعظم کو بھیجے گی، اس لیے فی الحال اسے منظور شدہ پالیسی کے بجائے حکومتی ہدف اور زیر تکمیل اصلاحاتی عمل سمجھا جا رہا ہے۔




