وفاقی حکومت نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کرتے ہوئے 29 ستمبر 2026 سے نئی ایکس ڈپو قیمتیں نافذ کردی ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت 2 روپے 27 پیسے فی لیٹر کم ہو کر 389 روپے 3 پیسے ہوگئی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 روپے 56 پیسے کم ہو کر 404 روپے 97 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی۔ اس سے پہلے پٹرول 391 روپے 30 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 408 روپے 53 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔
حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی خام تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کیا ہے۔ حکومتی دستاویزات کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کے روزانہ نرخ بین الاقوامی مارکیٹ میں گزشتہ سات دن کی اوسط قیمتوں، پریمیم، حادثاتی اخراجات اور دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھ کر مقرر کیے جا رہے ہیں۔ اوگرا کو یومیہ ایکس ڈپو قیمتیں شائع کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی ہے، تاکہ عالمی منڈی میں تبدیلی کا اثر نسبتاً جلد مقامی صارفین تک منتقل ہو سکے۔
تازہ کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال عالمی توانائی منڈی پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی خام تیل کی قیمت، فریٹ، انشورنس، روپے کی قدر اور حکومتی محصولات مقامی ایندھن کے نرخوں پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔ اسی وجہ سے روزانہ قیمتوں کے نئے نظام میں نسبتاً چھوٹی تبدیلیاں بھی زیادہ تیزی سے صارفین تک پہنچ سکتی ہیں۔
حکومت پٹرول اور ڈیزل پر مختلف محصولات اور لیویز بھی وصول کرتی ہے، جن کی مجموعی سطح مقامی ریٹیل قیمت کا اہم حصہ بنتی ہے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق پٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کا بوجھ 114 روپے فی لیٹر کے قریب جبکہ ڈیزل پر تقریباً 100 روپے فی لیٹر ہے۔ تاہم یہ اجزا پالیسی فیصلوں کے تحت تبدیل ہو سکتے ہیں، اس لیے صارفین کے لیے ہر نئے نوٹیفکیشن میں حتمی ایکس ڈپو قیمت دیکھنا ضروری ہے۔
پٹرول کی قیمت میں کمی براہِ راست نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے روزمرہ اخراجات پر اثر ڈالتی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت مال برداری، بس ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور بعض صنعتی سرگرمیوں کی لاگت کے لیے اہم ہے۔ ایک روز کی قیمت میں کمی فوری ریلیف دیتی ہے، لیکن عالمی تیل کی منڈی میں جاری اتار چڑھاؤ کے باعث آئندہ نرخ دوبارہ تبدیل ہو سکتے ہیں۔

