اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 84 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 28 پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ 4 ستمبر 2026 سے ہو گیا ہے۔

تازہ نظرثانی کے بعد پیٹرول 349 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 374 روپے 31 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ حکومتی اعداد کے مطابق پیٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی مجموعی شرح 114 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر برقرار ہے۔ اس اعلان میں مٹی کے تیل یا لائٹ ڈیزل کی نئی قیمتوں کی تفصیل نہیں دی گئی۔

یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور درآمدی لاگت میں تیز اتار چڑھاؤ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ زیادہ باقاعدگی سے طے کر رہی ہے۔ پیٹرولیم کے وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے جولائی میں کہا تھا کہ مارکیٹ کی غیر معمولی صورت حال کے دوران اوگرا کو عالمی رجحانات کی بنیاد پر یومیہ نرخ مقرر کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ اس سے پہلے مارچ کے بعد قیمتوں کا ہفتہ وار جائزہ لیا جا رہا تھا۔

سرکاری پالیسی کے مطابق قیمتوں میں مختصر وقفوں سے تبدیلی کا مقصد عالمی نرخوں کے اثرات کو مقامی مارکیٹ تک منتقل کرنا اور اچانک بڑے اضافے یا کمی کے بجائے مرحلہ وار ایڈجسٹمنٹ کرنا ہے۔ تاہم ہر نئی نظرثانی سے گھرانوں اور کاروباروں کے روزمرہ اخراجات متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ پیٹرول نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل مال برداری، مسافر ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری، بجلی پیدا کرنے والے بڑے جنریٹروں اور بعض صنعتی سرگرمیوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے ڈیزل کی قیمت میں اضافہ نقل و حمل اور رسد کی لاگت پر دباؤ ڈال سکتا ہے، اگرچہ کسی مخصوص کرائے یا اشیائے خورونوش کی قیمت میں اضافے کا سرکاری اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔

دستیاب تفصیل کے مطابق اپریل کے آغاز میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران ہائی اسپیڈ ڈیزل 520 روپے 35 پیسے اور پیٹرول 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک پہنچا تھا۔ موجودہ نرخ ان چوٹیوں سے کم ہیں، لیکن حالیہ یومیہ اضافے صارفین کے لیے ایندھن کے بجٹ کو مسلسل غیر یقینی بنا رہے ہیں۔ حکومت نے پہلے عالمی سپلائی میں ممکنہ خلل کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور ہدفی امداد کے اقدامات کا بھی اعلان کیا تھا۔

پیٹرولیم مصنوعات پاکستان میں سرکاری آمدن کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ماہانہ فروخت مجموعی طور پر لاکھوں ٹن میں ہوتی ہے، اس لیے ان کے نرخوں میں معمولی تبدیلی بھی صارفین، ٹرانسپورٹرز اور کاروباری لاگت پر وسیع اثر رکھتی ہے۔ آئندہ نرخ عالمی تیل، روپے کی قدر، درآمدی اخراجات اور حکومتی ٹیکس پالیسی کے مطابق نئے نوٹیفکیشن میں طے کیے جائیں گے۔