اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 5 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 37 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں 11 ستمبر سے نافذ ہیں، جس کے بعد پیٹرول 370 روپے 80 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 398 روپے 4 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔

ڈان اور بزنس ریکارڈر کی رپورٹس کے مطابق یہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھا روزانہ اضافہ ہے۔ حکومت نے جولائی میں عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ کے بعد قیمتوں کا یومیہ جائزہ لینے کا طریقہ متعارف کرایا تھا، جس کے تحت بین الاقوامی نرخوں اور رسد کی صورتحال کے مطابق نئی قیمتیں زیادہ تیزی سے صارفین تک منتقل ہو رہی ہیں۔

تازہ اضافے سے ایک روز قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل مہنگے کیے گئے تھے۔ 10 ستمبر کے لیے پیٹرول میں 3 روپے 40 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 6 روپے 72 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا تھا۔ اس سے پہلے 9 ستمبر کے لیے پیٹرول 5 روپے 58 پیسے اور ڈیزل 4 روپے 18 پیسے مہنگا ہوا، جبکہ 8 ستمبر کے لیے پیٹرول میں 12 روپے 90 پیسے اور ڈیزل میں 3 روپے 72 پیسے کا اضافہ کیا گیا تھا۔

پرافٹ کی رپورٹ کے مطابق 7 ستمبر کے بعد چار مسلسل اضافوں کے نتیجے میں پیٹرول مجموعی طور پر 24 روپے 93 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 19 روپے 99 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا ہے۔ پیٹرول کی قیمت 345.87 روپے سے بڑھ کر 370.80 روپے اور ڈیزل 378.05 روپے سے بڑھ کر 398.04 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔

ڈیزل کی قیمت میں اضافہ مال برداری، پبلک ٹرانسپورٹ، زرعی مشینری اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کے اخراجات پر اثر ڈال سکتا ہے، جبکہ پیٹرول مہنگا ہونے سے نجی گاڑی استعمال کرنے والے صارفین کی روزمرہ لاگت بڑھتی ہے۔ تاہم کسی مخصوص شے یا خدمت کی قیمت میں مستقبل کے اضافے کی مقدار کا تعین ابھی نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ کاروباری لاگت، طلب اور دیگر عوامل پر منحصر ہوگی۔

حکومت پیٹرول پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی مد میں مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر وصول کر رہی ہے۔ حالیہ عالمی توانائی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں رسد کے خدشات کے باعث خام تیل اور تیار ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ جاری ہے، جس کے سبب پاکستان میں یومیہ قیمتوں کا نظام صارفین کے لیے مسلسل تبدیلی کا باعث بن رہا ہے۔