کراچی: پاکستان تھر کے کوئلے کے ذخائر کو قومی ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کے بڑے ریل رابطہ منصوبے پر پیش رفت کر رہا ہے، جس کا مرکزی حصہ تقریباً 105 کلومیٹر نئی ریل رابطہ کاری پر مشتمل ہے۔ پاکستان ریلوے سے منسوب بیان کے مطابق منصوبے کا مقصد تھر کے کوئلے کو بجلی گھروں اور دیگر صنعتی صارفین تک زیادہ مؤثر اور نسبتاً کم لاگت طریقے سے پہنچانا اور ریلوے کے مال برداری نظام کو مضبوط کرنا ہے۔

بزنس ریکارڈر کی 11 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی منصوبے کو آگے بڑھانے اور پاکستان ریلوے کی فریٹ سرگرمی بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔ منصوبہ مکمل ہونے پر تھر کے کوئلے کو موجودہ قومی ریل نظام کے ذریعے مختلف کھپت مراکز تک منتقل کرنے کی سہولت پیدا ہوگی۔ حکومت اسے مقامی توانائی وسائل کے بہتر استعمال، درآمدی کوئلے کے متبادل اور زرمبادلہ پر دباؤ کم کرنے کی وسیع حکمت عملی سے جوڑ رہی ہے۔

منصوبے کی سرکاری اہمیت اس سے پہلے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں میں بھی سامنے آ چکی ہے۔ وزارت خزانہ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق ای سی سی نے تھر کول ریل کنیکٹیویٹی پروجیکٹ کے لیے 6.61 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کو بجٹ کور کے طور پر منظور کیا تھا۔ سرکاری بیان میں منصوبے کا مقصد مقامی کوئلے کو بجلی گھروں اور صنعتی شعبوں تک پہنچانا، توانائی تحفظ میں مدد دینا اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا بتایا گیا تھا۔ منصوبہ وفاق اور سندھ حکومت کی مشترکہ دلچسپی کا بنیادی ڈھانچہ منصوبہ ہے۔

تفصیلی ڈیزائن سے متعلق سابقہ رپورٹنگ کے مطابق منصوبے میں تھر کول مائنز سے نیو چھور اسٹیشن تک سنگل لائن ٹریک کے ساتھ بن قاسم اور پورٹ قاسم کے درمیان اضافی ریل رابطہ اور کوئلہ اتارنے کی سہولت جیسے اجزا بھی شامل رہے ہیں۔ منصوبے کی لاگت اور بعض تکنیکی تفصیلات وقت کے ساتھ نظرثانی سے گزری ہیں، اس لیے موجودہ خبر میں کسی پرانی لاگت یا تکمیل کی تاریخ کو حتمی نہیں سمجھا گیا۔

ریل کے ذریعے بڑی مقدار میں کوئلہ منتقل کرنے کی صلاحیت پاکستان ریلوے کے لیے فریٹ آمدن بڑھانے کا موقع بھی بن سکتی ہے۔ تاہم منصوبے کے معاشی فوائد کا حتمی حجم تعمیراتی پیش رفت، آپریشنل صلاحیت، مقامی کوئلے کی طلب اور بجلی و صنعتی شعبوں کی خریداری پر منحصر ہوگا۔ کوئلے کے استعمال کے ماحولیاتی اثرات بھی توانائی پالیسی کی بحث کا حصہ رہیں گے، جبکہ حکومت موجودہ منصوبے کو فوری طور پر توانائی درآمدات اور لاجسٹکس کے دباؤ میں کمی کے تناظر میں پیش کر رہی ہے۔