اسلام آباد: پاکستان اور تاجکستان نے دوطرفہ تجارت اور زرعی شعبے میں تعاون کو وسعت دینے، کاروباری روابط بڑھانے اور تجارت کے نئے راستے تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ سرکاری پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے پاکستان میں تاجکستان کے سفیر یوسف شریف زادہ سے ملاقات کی، جس میں اقتصادی تعلقات، زرعی تعاون اور باہمی تجارت کی موجودہ سطح کو بہتر بنانے کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ملاقات میں تاجک سفیر نے وفاقی وزیر کو ستمبر میں ہونے والے اقتصادی تعاون تنظیم کے آئندہ اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے تاریخی اور دوستانہ تعلقات مشترکہ مذہبی، ثقافتی اور تہذیبی روابط پر مبنی ہیں اور وسطی ایشیا میں تاجکستان پاکستان کے اہم شراکت داروں میں شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ تجارتی حجم کو زیادہ کاروباری رابطوں اور متبادل تجارتی ذرائع کے ذریعے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق دونوں ممالک نے زراعت، فوڈ پروسیسنگ، لائیوسٹاک، زرعی ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن کو ممکنہ تعاون کے نمایاں شعبوں کے طور پر شناخت کیا۔ پاکستان اور تاجکستان ان شعبوں میں اپنی مہارت اور تجربات کے تبادلے کے ذریعے خوراک اور زرعی پیداوار کی قدر بڑھانے، نئی منڈیوں تک رسائی اور کاروباری شراکت داری کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ تاہم ملاقات میں کسی مخصوص تجارتی ہدف، سرمایہ کاری رقم یا نئے معاہدے پر دستخط کا اعلان نہیں کیا گیا۔
تاجک سفیر نے دوطرفہ تجارت میں حالیہ کمی کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تجارت بحال اور وسیع کرنے کے لیے متبادل آپشنز اور نئے راستوں کی تلاش اہم ہے۔ دونوں فریقوں نے کاروبار سے کاروبار رابطے مضبوط کرنے، تجارتی و اقتصادی روابط بڑھانے اور زرعی و غذائی شعبوں میں نئی شراکت داریوں کی نشاندہی جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں علاقائی رابطہ کاری کو بھی اقتصادی تعلقات کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت میں زمینی رابطوں اور علاقائی راہداریوں کو اہم سمجھتا ہے، جبکہ تاجکستان جیسے خشکی سے گھرے ملک کے لیے بندرگاہوں اور جنوبی ایشیائی منڈیوں تک مؤثر رسائی تجارتی امکانات بڑھا سکتی ہے۔ موجودہ ملاقات کا فوری نتیجہ تعاون بڑھانے کی سیاسی اور انتظامی خواہش کی تجدید ہے؛ عملی پیش رفت کا انحصار آئندہ مذاکرات، کاروباری روابط، نقل و حمل کے انتظامات اور ممکنہ شعبہ جاتی معاہدوں پر ہوگا۔




